مہاجرین، بچوں کی عمر اور برداشت میں معکوس تناسب | مہاجرین کا بحران | DW | 19.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

مہاجرین، بچوں کی عمر اور برداشت میں معکوس تناسب

ایک تازہ مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ جرمن بچوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلق برداشت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس سروے کے لیے مختلف جرمن اسکولوں کے دس ہزار بچوں کی رائے لی گئی، جن کی عمریں نو تا 14 برسوں کے درمیان تھیں۔ جرمن ادارے ایل بی ایس  کی جانب سےکِنڈر بیرومیٹر کے نام سے یہ سروے پروکنڈر نامی تنظیم نے کیا ہے۔ اس سروے کے دوران ان بچوں سے پوچھا گیا کہ کیا غربت اور تشدد کے شکار ممالک سے مہاجرین اور تارکین وطن کو جرمنی لایا جانا چاہیے؟

'مہاجرین سمجھ لیں، جرمنی جنسی جرائم برداشت نہیں کرے گا‘

سابقہ مشرقی جرمن باشندے مہاجرین سے متعلق برداشت دکھائیں، میرکل

مہاجرین اور مہاجرت سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے والی ویب سائٹ انفومائیگرنٹس کے مطابق گو کہ بچوں کی اکثریت مہاجرین اور تارکین وطن کو جرمنی میں لانے اور بسانے کے حق میں تھی، تاہم دس فیصد بچوں نے اس سے شدید اختلاف کیا۔

عمر اور رہائش کا علاقہ، برداشت پر اثرانداز

اس مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ عمر کے بچوں میں تارکین وطن کے حوالے سے برداشت کم دیکھی گئی ہے، تاہم ان کی رہائش کی جگہ کا ان کے رویے پر اثرانداز ہونا بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ آبادی والے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا  اور بریمن، ہیمبرگ اور برلن میں بچے مہاجرین کے سب سے زیادہ حامی دیکھے گئے، جب کہ مشرقی جرمن ریاستوں برانڈنبرگ، سیکسنی انہالٹ اور تھیورنگیا میں یہ برداشت کم دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل قریب دوتہائی (61%) بچوں نے دوسرے ممالک سے جرمنی پہنچنے والے بچوں کو اپنا دوست بتایا۔

اس جائزے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے مالیاتی ادارے ایل بی ایس کے ترجمان کرسٹیان شرؤڈر کے مطابق، ’’دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ساتھ گھلنا ملنا، اب اسکول کے بچوں کی زندگی کا ایک عمومی حصہ بن چکا ہے۔‘‘

اس مطالعاتی جائزے میں شامل بچوں میں سے ایک تہائی ایسے بھی تھے، جن کے دوست ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار تھے۔

انفومائیگرنٹس ڈاٹ نیٹ، ع ت، الف ب الف

DW.COM