مہاجرین: برلن میں ہنگامی مراکز بند کیے جا رہے ہیں، متبادل کیا ہیں؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 17.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین: برلن میں ہنگامی مراکز بند کیے جا رہے ہیں، متبادل کیا ہیں؟

جرمن دارالحکومت برلن کی سینیٹ شہر میں موجود مہاجرین کے تمام ہنگامی مراکز کو بند کرنا چاہتی ہے۔ برلن کے ان مراکز میں ابھی تک پناہ کے 4211  متلاشی رہتے ہیں۔

بائیں بازو کی سیاسی جماعت ڈی لنکے سے تعلق رکھنے والی برلن کی سینیٹر ایلکے برائٹن باخ کے مطابق، ’’ہم چاہتے ہیں کہ مہاجرین کے لیے قائم ہنگامی مراکز کو جلد از جلد بند کر دیا جائے۔‘‘ تاہم اس موقع پر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس فیصلے پر کب تک عمل کیا جائے گا۔

 برائٹن باخ نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام مراکز بہت زیادہ اہم نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس فیصلے کو عملی جامہ پہننانے سے مہاجرین کی رہائش کی صورتحال بہت تیزی سے بہتر ہو جائے گی، ’’ہم نے چند ہنگامی مراکز کو کمیونٹی رہائش گاہوں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، تا کہ مہاجرین کو دیگر افراد کے علاوہ اپنے لیے کھانا خود پکانے کی سہولت بھی حاصل ہو۔‘‘

جرمنی میں 2015ء میں بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے موقع پر اسکولوں، اسپورٹس ہالز کی طرح کی دیگرعمارتوں کو ہنگامی مراکز کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ ان ہالز میں ایک ہی کمرے میں بہت سارے لوگوں کو ٹھہرایا گیا تھا جبکہ کھانے پینے کے علاوہ  دیگر بنیادی سہولیات بھی محدود تھیں۔ متعدد شہروں میں اب مہاجرین کو مناسب گھر مہیا کرتے ہوئے یہ مراکز ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔

یونان میں ایک اور عارضی مہاجرکیمپ کا صفایا

کولون: مہاجرین کی عارضی رہائش گاہیں خالی کرا لی گئیں

 سینیٹر ایلکے برائٹن باخ نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے کے دوران کنٹینرز میں بنائی جانے والی مزید رہائش گاہوں کا انتظام کیا جائے گا، ’’اس طرح کی رہائش بھی مناسب نہیں ہے۔ ہم  مہاجرین کے مراکز کو ختم کرنا اور لوگوں کو گھروں اور فلیٹس میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

براٹن باخ گزشتہ ایک برس سے سینیٹ میں ڈی لنکے پارٹی کی جانب سے سماجی امور اور غیرملکیوں کے جرمن معاشرے میں انضمام پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے بارہ ماہ کے دوران کم از کم بارہ ہزار مہاجرین ان مراکز سے نکل کر بہتر جگہوں پر منتقل ہو چکے ہیں، ’’ اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے‘‘۔

 

DW.COM

اشتہار