مہاجرين کی منتقلی اور اضافی وسائل دونوں ضروری، يو اين ايچ سی آر | مہاجرین کا بحران | DW | 16.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کی منتقلی اور اضافی وسائل دونوں ضروری، يو اين ايچ سی آر

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين کی جانب سے دنيا بھر ميں سب سے زيادہ مہاجرين کی ميزبانی کرنے والے ملک ترکی کے ليے اضافی وسائل کے حصول اور تارکين وطن کی ديگر ممالک ميں منتقلی کی کوششوں ميں تيزی لائی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرين فيليپو گرانڈی نے شامی اور ديگر شہريتوں کے حامل پناہ گزينوں کی يورپ ميں وسيع پيمانے پر منتقلی پر زور ديا ہے۔ گرانڈی نے يہ بيان ترک شہر استنبول ميں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چيت کرتے ہوئے ہفتہ سولہ جنوری کے روز ديا۔

پناہ گزينوں کی ميزبانی ميں ترکی ان دنوں عالمی سطح پر سر فہرست ملک ہے۔ شام ميں جاری خانہ جنگی کے سبب وہاں تقريباً 2.2 ملين شامی پناہ گزين عارضی پناہ ليے ہوئے ہيں۔

اسی ماہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرين کا عہدہ سنبھالنے والے فيليپو گرانڈی کے مطابق ترکی ميں عارضی پناہ ليے ہوئے لاکھوں مہاجرين کی زندگيوں ميں بہتری لانے کے ليے اضافی وسائل کا بندوبست کرنے ميں انقرہ حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے مزيد کہا، ’’ہم ديگر امور پر بھی غور کريں گے۔ مثلاً پناہ گزينوں کی منتقلی کے مواقع کا بھی جائزہ ليا جائے گا۔‘‘

فيليپو گرانڈی نے ترکی کے دورے پر شام کی سرحد کے قريب واقع ايک مہاجر کيمپ کا دورہ بھی کيا، جو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرين کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا ايسا دورہ تھا۔ يو اين ايچ سی آر ترکی کو اس وقت صرف ريسکيو مصنوعات، فيلڈ مانيٹرنگ اور تکنيکی مشاورت فراہم کرتی ہے۔

ترکی ميں تقريباً 2.2 ملين شامی پناہ گزين ہيں، جن کا صرف دس فيصد حصہ مہاجر کيمپوں ميں رہتا ہے۔ بقيہ لاکھوں تارکين وطن انتہائی مشکل حالات ميں وقت گزار رہے ہيں کيونکہ ترک قانون انہيں ملازمت کی اجازت نہيں ديتا۔ اکثر اوقات شامی مہاجرين کو کافی کم اجرت کے بدلے غير قانونی طور پر کام کرتے ديکھا جا سکتا ہے۔ گرانڈی نے انقرہ حکومت کے شامی مہاجرين کو ملازمت کی اجازت دينے کے حاليہ فيصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ يہ کافی اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ورک پرمٹ بہتر زندگی کے حصول ميں مددگار ثابت ہوں گے چاہے شامی پناہ گزين ادھر طويل بنيادوں پر قيام کريں يا نہيں۔‘‘

ترکی ميں آج تک صرف 7,300 ورٹ پرمٹس کا اجراء ہوا ہے۔ ترک وزير برائے يورپی امور نے اسی ہفتے اعلان کيا تھا کہ شامی مہاجرين کی يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کی حوصلہ شکنی کے ليے حکومت مزيد شامی باشندوں کو ملازمت کی اجازت دينے کا منصوبہ رکھتی ہے۔