مہاجرين کو ملازمتيں فراہم کرنے کے ليے عالمی اداروں کے قرضے | مہاجرین کا بحران | DW | 28.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کو ملازمتيں فراہم کرنے کے ليے عالمی اداروں کے قرضے

عالمی بينک کے صدر جم يونگ کم نے اعلان کيا ہے کہ اردن ميں موجود شامی پناہ گزينوں اور مقامی لوگوں کے ليے ملازمت کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے عمان حکومت کو انتہائی نرم شرائط پر ايک سو ملين ڈالر کا قرضہ فراہم کيا جائے گا۔

جم يونگ کم نے ايک سو ملين ڈالر کے اس قرض کا اعلان اردن کے دارالحکومت عمان ميں اتوار ستائيس مارچ کے روز کيا ہے۔ يہ قرض طويل المدتی بنيادوں پر اور انتہائی کم شرح سود پر مہيا کيا جائے گا۔ قبل ازيں وہ لبنان ميں موجود شامی مہاجرين کو تعليم کی فراہمی ممکن بنانے کے ليے بھی ايک سو ملين ڈالر کے قرض کا اعلان کر چکے ہيں۔ 

يہ قرضے عالمی برادری کی جانب سے خطے ميں موجود اردن اور لبنان جيسے ملکوں کی مدد کا حصہ ہيں، جو لاکھوں پناہ گزينوں کا بوجھ اٹھا رہے ہيں۔ اس امداد کا ايک اور مقصد يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کو روکنا بھی ہے۔ عالمی بينک کے صدر جم يونگ کم اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون گزشتہ ہفتے سے اسی سلسلے ميں خطے کے ممالک کا دورہ کر رہے ہيں۔ ان کی پہلی منزل لبنان تھی۔

اردن کا زاتاری کيمپ

اردن کا زاتاری کيمپ

ورلڈ بينک کے صدر کا کہنا ہے کہ اردن اور لبنان درميانی آمدنی والے ممالک ہيں اور ان کے ليے يہ قرضے غريب ملکوں کے ليے مختص کردہ فنڈز سے مہيا کيے جا رہے ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم يہ رقوم فنڈ سے اس ليے نکال رہے ہيں کيونکہ اردن نے پناہ گزينوں کی مدد کے ليے بہت  موثر اقدامات کيے ہيں۔‘‘ جم يونگ کم نے البتہ اپنے بيان ميں يہ واضح نہيں کيا کہ رقوم سے پيدا ہونے والی ملازمتوں کے ايک لاکھ مواقع کب تک تيار ہوں گے اور ان ميں سے کتنے تارکين وطن کو ديے جائيں گے۔

اردن نے خصوصی معاشی زونز کے قيام کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت اميد کرتی ہے کہ يورپ کے ساتھ تجارتی روابط ميں بہتری سے سرمايہ کاری بڑھے گی اور اسی کے نتيجے ميں نئی ملازمتيں بھی سامنے آئيں گی۔ تاہم ان اقدامات کو تاحال حتمی شکل نہيں دی گئی ہے اور اسکيم کو عملی جامع پہنانے ميں چند برس  لگ سکتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے ليے نرم شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا اعلان گزشتہ مہينے شام کے موضوع پر ہونے والی ڈونر کانفرنس ميں طے پائے جانے والے اقدامات کا حصہ ہے۔ ورلڈ بينک اور ديگر ڈونرز خطے ميں تارکين وطن کی مدد کرنے والے ممالک کے ليے مجموعی طور پر تين تا چار بلين کے قرضے فراہم کريں گے۔