موصل کی لڑائی سے بغداد اور انقرہ حکومتوں کے اختلافات تازہ | حالات حاضرہ | DW | 20.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کی لڑائی سے بغداد اور انقرہ حکومتوں کے اختلافات تازہ

موصل کا قبضہ چھڑانے کا آپریشن عراقی فوج نے رواں ہفتے پیر کے روز سے شروع کر رکھا ہے۔ اس اہم ملٹری آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے قدیمی نسلی و مذہبی تنازعات نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

موصل شہر کی بازیابی کا عسکری مشن ابھی تک معمول اور توقع کے مطابق جاری ہے۔ عراقی فوج شہر کی جنوبی سمت سے قابض ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کو اپنے گھیرے میں لینے کی کوشش میں ہے جب کہ کرد فورسز شمال اور شمال مشرقی سمتوں سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اِس آپریشن کے دوران اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے لیکن ابھی سے نسلی و مذہبی تنازعات نے ابھرنا شروع کر دیا ہے اور یہ صورت حال لڑائی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اس فوجی مشن کے حوالے سے عراق اور ترکی کے درمیان بھی تنازعہ جنم لے چکا ہے۔ ترکی کے سینکڑوں فوجی موصل کے قریب شمال میں انقرہ حکومت کی ہدایت کے منتظر ہیں۔ عراقی وزیراعظم ان کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے ترک فوج کو ’قابض فوجی‘ قرار دے رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا خیال ہے کہ عراقی فوج اکیلے موصل پر قبضہ کرنے کی قوت نہیں رکھتی۔ اس حوالے سے دونوں لیڈروں کے درمیان تلخی موجود ہے۔

Irak Angriff auf Mossul Peschmerga (Getty Images/AFP/S. Hamed)

موصل شہر کی جانب بڑھتے فوجی قافلے

یہ امر اہم ہے کہ ترکی کے اِس وقت کرد لیڈر مسعود بارزانی کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور یہ بھی بغداد حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ بغداد حکومت کا خیال ہے کہ ترکی فوجی بارزانی کی مرضی سے عراق میں موجود ہیں۔ کرد وزیر خارجہ فلاح مصطفیٰ نے اِس معاملے پر کچھ کہنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ بظاہر ترک فوجی اس وقت نینوا صوبے کے سابق گورنر اثیل النجائفی کے حامی گوریلوں کی تربیت میں مصروف ہیں۔ موصل اسی نینوا صوبے کا دارالحکومت ہے۔

موصل کی بازیابی کی لڑائی شروع ہوتے ہی جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے مخالف تمام دھڑے ہتھیاروں سمیت شہر کی فصیل کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایسا امکان ہے کہ قبضہ چھڑانے کے بعد فریقین اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر پِل پڑیں گے۔

 بغداد میں مقیم ایک تجزیہ کار ہادی جُلُو معراج کا کہنا ہے کہ موصل کی حاکمیت کا معاملہ اہم نہیں ہے اور عراقی فوج کے حملے کے بعد ممکنہ کامیابی کی صورت ميں تمام مذہبی و نسلی گروپوں کی حوصلہ شکنی ہونے کا قوی امکان ہے۔ موصل کے سنیوں کو خوف لاحق ہے کہ بغداد کی شیعہ حکومت کامیابی کے بعد آبادی کی ہیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے اور شیعوں کی آبادکاری کا عمل سامنے لایا جا سکتا ہے۔