موسیقی کا ارتقا | معاشرہ | DW | 04.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

موسیقی کا ارتقا

موسیقی کی کہانی اتنی ہی طویل ہے، جتنی خود انسان کی کہانی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کہیں موجود ہو اور وہاں سُر نہ پھوٹیں؟

موسیقی شروع کیسے ہوئی؟ ہمارے جدابجد نے چیزیں ٹکرا کر ترنگ قائم کیا یا اپنی آواز سے گیت بکھیرے؟ ان کے پاس موسیقی کے آلات کیا تھے؟ کیا موسیقی ہمیشہ سے انسانی معاشرے کے لیے اہم رہی ہےِ؟

یہ وہ سوالات ہیں، جن پر ماہرین ایک طویل عرصے سے تحقیق میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں فرنٹیئر آف سوشیالوجی جریدے میں اس بابت ایک تحقیقی مضمون بھی شائع ہوا۔ ماہرین کے مطابق موسیقی کی کہانی، کئی معنوں میں خود انسان کی اپنی کہانی ہے۔

موسیقی کسے کہتے ہیں؟

اس سوال کے جواب مختلف ہو سکتے ہیں کیوں کہ موسیقی کے حوالے سے سب کا نظریہ اور خیال مختلف ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے جیرمی مونٹاگو کہتے ہیں، ''موسیقی وہ آواز ہے، جو جذبات سے بھری ہو۔‘‘ اس تعریف کے اعتبار سے تو آپ بچے کو سلانے کے لیے لوری دیتی ماں کو بھی گلوکارہ قرار دے سکتے ہیں کیوں کہ اس آواز میں ممتا کے تمام جذبات موجود ہوتے ہیں، پر یہ 'آواز‘ تو گفتگو جیسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر گفتگو اور موسیقی کے درمیان فرق کیسے کیا جائے؟ آپ کے دماغ میں پہلا خیال آئے گا 'ردھم‘ یا لے اور آواز کا منظم اتار چڑھاؤ ۔

اسی لیے ماہرین کے مطابق ہر شخص اپنے طور پر طے کرتا ہے کہ یہ گفتگو ہے یا موسیقی۔

انسان اور موسیقی

ہمارے جدابجد نے کب گانا شروع کیا؟ اگر آواز کے اتار چڑھاؤ پر قابو پانا گائیکی ہے، تو انسانوں نے آواز کے زیروبم کب منظم انداز سے قابو کیے؟ سائنسدانوں نے انسانوں اور ان سے قبل کے انسان نماؤں کے جبڑے اور سریاں مطالعہ کیں، تاکہ معلوم ہو کہ کیا وہ آواز پیدا کرتے تھے؟ اور انہیں پِچ کنٹرول کرنے سے کوئی راہ تھی؟

قریب کوئی دس لاکھ برس قبل نیاندراتھالز اور موجودہ انسانوں کے جدابجد کے پاس آواز پیدا کرنے کی حس موجود تھی۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ گاتے تھے یا نہیں۔

موسیقی کا ایک اور اہم جز ہے لے۔ ہمارے آباؤاجداد نے غالباﹰ تالی بجا کر لے قائم کی ہو  گی۔ اسی لے کی بنیاد پر موسیقی کے ابتدائی آلات بھی تخلیق کیے گئے ہوں۔ پھر تالیاں دیر تک بجانے سے ظاہر ہے ہاتھوں میں درد ہوا ہو گا اور درد سے بچنے کے لیے لاٹھیاں ٹکرائی گئی ہوں گی۔ یہیں سے آواز کو لے دی گئی ہو گی۔ بہتر آواز پیدا کرنے کے لیے کھوکھلی لکڑیاں اور ہڈیاں استعمال کی گئی ہوں گی۔ محققین کو چالیس سے تینتالیس ہزار برس قبل کی گِدھوں اور راج ہنسوں کے پروں کی ہڈیاں ملیں ہیں، جنہیں غالباﹰ اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اسی طرح مختلف غاروں سے بارہ ہزار سال پرانے کھوکھلے پتھر بھی ملے ہیں، جو ماضی کے انسان کے لیے یقیناﹰ موسیقی کا ایک آلہ ہوں گے۔ غار تو ویسے بھی فطری بازگشت کی ایک عمدہ جگہ ہوتی ہے۔

موسیقی کا ارتقا

موسیقی کا ارتقا کسی بھی دوسری شے کے ارتقا سے مختلف نہیں ہے۔ بلکہ سائنسدان تو یہاں تک کہتے ہیں کہ موسیقی بھی 'نیچرل سلیکشن‘ کے عمل سے مبرا نہیں اور اس کا ارتقا بھی حیواناتی اور نباتاتی ارتقا ہی کی طرح ہوا۔

یعنی ایک مسلسل تخلیقی، تحریک اور تباہی کا ایک مسلسل عمل، جس میں بقا صرف اس کے حصے میں آتی ہے، جو اتنا بہتر اور طاقت ور ہو کہ بچ سکے۔ موسیقی اور آلاتِ موسیقی بھی 'سروائیول فار فٹیسٹ‘ کے اصول ہی کے طور پر آگے بڑھے۔

جہاں انسان وہاں فن

ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق وہ غار ہوں کہ دیگر مقاماتِ قدیمہ، جن جن مقامات پر انسان نے قیام کیا وہاں مصوری، موسیقی اور فن کی دیگر جہتوں کے کچھ نہ کچھ سراغ ضرور ملے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان نے جہاں قدم رکھا ہو، وہاں موسیقی پیدا نہ ہوئی ہو؟

تحریر: عاطف توقیر

ملتے جلتے مندرجات