مودی کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش پر بھارت کی شکایت | حالات حاضرہ | DW | 29.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش پر بھارت کی شکایت

بھارت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دینے پر اقوام متحدہ کی ہوا بازی کی تنظیم کو پاکستان کے خلاف ایک خط لکھ دیا ہے، جس کے بعد اس تنظیم نے پاکستان سے مزید معلومات طلب کر لی ہیں۔

کینیڈا میں مانٹریال اور بھارت میں نئی دہلی سے منگل انتیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کہلانے والی تنظیم نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے گزشتہ ویک اینڈ پر بھارتی وزیر اعظم کو ایک غیر ملکی دورے کے لیے جاتے ہوئے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے جو انکار کر دیا تھا، اس کے خلاف نئی دہلی نے اب ICAO میں پاکستان کے خلاف شکایت کر دی ہے۔ اس تحریری شکایت کے بعد عالمی ہوا بازی تنظیم نے پاکستان سے مزید معلومات مانگ لی ہیں۔

پاکستان کا مودی کو دو مرتبہ انکار

پاکستان اور بھارت کے مابین ان دونوں ہمسایہ ریاستوں کے بیچ متنازعہ جموں کشمیر کے خطے کے بھارت کے زیر انتظام حصے سے متعلق نئی دہلی حکومت کے پانچ اگست کے اقدامات کے بعد سے کشیدگی اور زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی کشیدگی کے دوران نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین پاکستانی فضائی حدود کا استعمال اس وقت ایک نیا متنازعہ معاملہ بن گیا، جب پاکستان نے بھارتی وزیر عظم نریندر مودی کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے دوسری مرتبہ بھی انکار کر دیا۔

بھارتی وزرات خارجہ کے مطابق پاکستان کے اسی انکار کی وجہ سے مودی نے سرمایہ کاروں کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی عرب جاتے ہوئے کل پیر اٹھائیس اکتوبر کو ایک ایسا طویل فضائی راستہ اختیار کیا تھا، جس دوران انہیں لے کر جانے والا طیارہ پاکستانی فضائی حدود سے نہیں گزرا تھا۔

بھارتی شکایت کی تصدیق

اس بارے میں ایک بھارتی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بتایا، ''ہم نے یہ مسئلہ شہری ہوا بازی کی عالمی تنظیم کے سامنے رکھ دیا ہے۔‘‘ اس بھارتی اہلکار نے کہا، ''یہ معمول کا طریقہ کار ہے۔ کسی بھی رہنما کے کسی دوسرے ملک کی فضائی حدود سے گزرنے سے قبل باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے۔ ہم نے وزیر اعظم مودی کے اس دورے سے قبل بھی پاکستان سے اجازت مانگی تھی لیکن یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔‘‘

پاکستانی موقف

نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بھارتی درخواست کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے میں بھارتی حکومت کے جابرانہ اقدامات کی وجہ سے مسترد کی گئی۔

اسی بارے میں اتوار ستائیس اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ''بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔‘‘

اس سے قبل پاکستان نے ستمبر کے مہینے میں بھی بھارتی وزیر اعظم مودی کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اس وقت انکار کر دیا تھا، جب دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور مودی جرمنی جا رہے تھے۔

مانٹریال میں بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے انکار کے بارے میں اس تنظیم کو نئی دہلی حکومت نے ایک خط لکھا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس طرح کی ایئر کلیئرنس سے متعلق نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین تنازعے کے خاتمے کے لیے یہ عالمی تنظیم کیا کارروائی یا اقدامات کر سکتی ہے۔

م م / ا ا (روئٹرز)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات