مودی واقعی دنیا کے مقبول ترین رہنما ہیں؟ یا پھر یہ سیاسی چال ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 21.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی واقعی دنیا کے مقبول ترین رہنما ہیں؟ یا پھر یہ سیاسی چال ہے؟

ایک تازہ ترین سروے میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ تاہم مبصرین ایسے جائزوں کو بعید از حقیقت قرار دیتے ہوئے انہیں ایک سیاسی چال قرار دیتے ہیں۔

عالمی سطح پر سیاسی رہنماؤں کی مقبولیت کی درجہ بندی کرنے والے ایک ادارے 'مورننگ کنسلٹ پولیٹیکل انٹیلیجنس' (ایم سی پی آئی) نے اپنے نئے جائزے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دنیا کے تمام سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں سب سے مقبول ترین رہنما بتایا ہے۔ اس سروے میں دعوی کیا گيا ہے کہ مودی کو ملک کے 71 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔

تازہ سروے کیا ہے؟

مورننگ کنسلٹ پولیٹیکل انٹیلیجنس اس وقت آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی، جاپان، میکسیکو، جنوبی کوریا، اسپین، برطانیہ اور امریکا جیسے ممالک کے حکومتی سربراہان اور ملک کی ترقی کی رفتار کے بارے میں عوام کی حمایت کی درجہ بندی کرتی ہے۔

اس کا دعوی ہے کہ اس نے دنیا کے جن 31 رہنماؤں کے بارے میں تازہ سروے کیا ہے اس میں امریکی صدر جو بائیڈن کو اب صرف 43 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ عالمی سطح پر اس درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں 71 فیصد جواب دہندگان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں ووٹ دیا اور صرف 21 فیصد لوگوں نے ہی ان کی مخالفت کی۔

کیا یہ جائزے درست تصویر پیش کرتے ہیں؟

بھارت میں سیاسی مبصر اور بعض دانشور ایسے جائزوں کو بعید از حقیقت قرار دیتے ہوئے انہیں ایک سیاسی چال قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ ریاستوں کی اسمبلی انتخابات میں اب بہت کم وقت باقی بچا ہے، اس تناظر میں سیاسی مفاد کے لیے اس طرح کے جائزے "اسپانسر‘‘ کیے جاتے ہیں۔ 

بائیں بازو سے وابستہ سرکردہ دانشور اتل انجان کہتے ہیں، "بھارت جیسے ملک میں جذبات پر مبنی، مذہبی اور فرقہ پرستی کی سیاست ہو رہی ہے اور ایسے میں جو زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے سروے میں اس کی ساکھ کو بہتر کر دیا جاتا ہے۔ اس کا حقیقت اور سچائی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔"

ڈی ڈبلیو اردو سے بات چيت میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مودی اتنے ہی مقبول رہنما ہیں تو دنیا کے دیگر ممالک بھارت کو امداد فراہم کرنے کے بجائے اب قرض میں کیوں ڈوبو رہے ہیں،’’یو پی کا انتخاب 2024 کے عام انتخاب کا سیمی فائنل ہے اور لوگوں کے دل و دماغ پر قبضے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے انڈيا ٹو ڈے کی میگزين کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گيا ہے۔‘‘

اتل انجان کے بقول نریندر مودی کی فکر اور سوچ میں کچھ بھی اوریجینل نہیں ہے،’’وہ دن رات تقریریں کرتے رہتے ہیں، اقوام متحدہ میں بھی کئی بار خطاب کر چکے ہیں۔ لیکن کیا ان کی کوئی بھی ایسی تقریر ہے جسے ایک زبردست خطاب کہا جا سکے، جو دنیا کی عوام کو متاثر کرتی ہو یا پھر کوئی نیا راستہ ہی دکھاتی ہو۔"

 وہ مزید کہتے ہیں کہ جنگوں اور ان کے حل سے متعلق راجیو گاندھی کا ایک خطاب اتنا معروف ہوا  کہ آج وہ دنیا میں راجیو ڈاکٹرین کے نام سے معروف ہے۔ کیا مودی کی بھی غربت کے خاتمے، غیر انصافی  یا سائنس سے جیسے موضوع پر کوئی ایسی تقریر ہے؟

موڈ آف دی نیشن

بھارت کے ایک معروف میڈیا ادارے 'انڈیا ٹوڈے' نے بھی اس سلسلے میں 'موڈ آف دی نیشن' کے نام سے جو سروے کیا ہے اس میں بھی یہی دعوی کیا گيا ہے کہ بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ یہ رپورٹ بھی 21 جنوری جمعے کے روز ہی شائع ہوئی ہے۔ 

تاہم 'انڈیا ٹوڈے' کے جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملک کی آبادی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزرائے اعلیٰ کے بارے میں ایسا محسوس نہیں کرتی ہے اور عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے حوالے سے اہم خدشات میں مبتلا ہے۔ 

گزشتہ نومبر میں بھی اسی طرح کے ایک سروے میں نریندر مودی کو دنیا کا مقبول ترین رہنما بتایا گيا تھا، جبکہ مورننگ کنسلٹ پولیٹیکل انٹیلیجنس نے مئی 2020 میں اس وقت مودی کو 84 فیصد کی اپروؤل ریٹنگ دی تھی جب بھارت میں کورونا وائرس کی پہلی لہر زوروں پر تھی۔ 

انڈیا ٹوڈے کا کہنا ہے کہ ملک وبا کے مصائب اور اس کے زخموں سے نبرد آزما ہے، معیشت تباہ حال ہے اور چین کے ساتھ ایک خطرناک سرحدی محاذ آرائی کا ماحول ہونے کے ساتھ ہی کسانوں کے مسائل بھی ہیں، تاہم مودی کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ہے۔

’اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش‘

 معروف صحافی اور  ایڈیٹرز گلڈز آف انڈيا کے سکریٹری سنجے کپور کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سروے کا مقصد ہی حکمرانوں کی تعریف اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، "جو ایجنسیاں ایسا کرتی ہے وہ بھی اپنے آقاؤں کے تابع ہوتی ہیں اور ان کے اشارے پر کام کرتی ہیں۔"

سنجے کپور کے مطابق تاہم نریندر مودی بھارت میں مقبول رہنما تو ہیں کیونکہ یہ ہر چیز میں اس طرح کی مداخلت کرتے ہیں کہ جیسے ملک کو صرف وہی چلا رہے ہیں یا پھر وہی بگاڑ رہے ہیں،'' کسی دوسرے شخص کا کہیں نام ہی نہیں آتا ہے۔ تو انتخابات سے قبل ایسے سروے کا مقصد سیاسی مفاد ہے اور یہ دکھانا ہے کہ ہم اب بھی مقبول ہیں۔‘‘

سنجے کپور کے مطابق انتخابات سے قبل یہ بھی ایک چال ہے اور چونکہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی نریندر مودی کے نام پر ہی ووٹ مانگے گی اس لیے اس طرح کے جائزوں کا مقصد عوام میں ان کی قیادت کی واہ واہ ہی کرانا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:41

نئی دہلی ایک جانب فوجی تو دوسری طرف ٹریکڑ پریڈ

DW.COM