مودی بنگلہ دیش میں، ایک تیر سے دو شکار | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مودی بنگلہ دیش میں، ایک تیر سے دو شکار

مودی اپنے اس دورے سے جہاں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ بھارت، بنگلہ دیش کو بہت اہمیت دیتا ہے وہیں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے مدنظر متوا بنگالیوں کا دل جیتنے کے لئے ان کے متبرک مقام اورکانڈی ٹھاکر باڑی جائیں گے۔

کورونا وبا شروع ہونے کے بعد سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جب اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جمعہ 26مارچ کو ڈھاکہ پہنچنے تو  بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ان کا خیر مقدم کیا۔ مودی دو روزہ  دورے کے دوران بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی تقریبات اور 'بنگ بندھو‘ شیخ مجیب الرحمان کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے علاوہ اورکانڈی ٹھاکر باڑی کا بھی دورہ کریں گے۔ جو متوا بنگالیوں کے روحانی پیشوا گرو ہری چند ٹھاکر کی جائے پیدائش ہے۔ متوا بنگالی مغربی بنگال کے الیکشن میں اہم عنصر ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے ڈھاکہ روانگی سے قبل ایک ٹوئٹ کر کے کہا،”میں بالخصوص اورکانڈی میں متوا کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کا متمنی ہوں، جہاں سے شری شری ہری چندر ٹھاکر جی نے اپنا مقدس پیغام دیا تھا۔" انہوں نے ڈھاکہ سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی اسٹار میں شائع اپنے مضمون کا لنک بھی شیئر کیا ہے۔

مودی نے کہا کہ وہ شیخ حسینہ کے والد بنگ بندھو کے نام سے مشہور بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان کی قبر پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ٹنگی پاڑہ بھی جائیں گے۔

ایک تیر سے دو شکار

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی 'اپنے اسٹائل کے مطابق‘ اس غیر ملکی دورے کے دوران بھی ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سینیئر بھارتی صحافی گوتم ہورے نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”مودی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا شروع ہونے کے بعد سے وہ اپنا پہلا دورہ بنگلہ دیش کا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ مغربی بنگال کے متوا بنگالیوں کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیونکہ شہریت کے معاملے پر متوا بی جے پی سے ناراض ہیں۔دراصل مودی حکومت نے ان کی شہریت کے مسئلے کو فوراً حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا۔ اب انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں کہا ہے کہ اگر وہ ریاست میں حکومت میں آئی تو کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ہی سی اے اے نافذ کر دیا جائے گا۔حالانکہ بی جے پی یہی بات آسام میں نہیں بول رہی ہے۔" 

گوتم ہورے کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ تیستا ندی کے پانی کی تقسیم کا ہے۔ اس دورے میں خیر سگالی کی باتیں تو ہوں گی لیکن سب سے بڑے مسئلے کا کوئی حل نکلنے والا نہیں ہے۔

Tausende bangladeschische Muslime protestieren gegen Gewalt in Indien

حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش میں بھی بھارت مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔

بھارت سے ناراضگی

بھارتی صحافی گوتم ہورے کہتے ہیں کہ بھارت کے تمام پڑوسی ملکوں میں گوکہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے سب سے بہتر تعلقات ہیں اور شیخ حسینہ حکومت کو بھارت نواز کہا جاتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش میں بھی بھارت مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بھارتی سرحدی فورسز بی ایس ایف کی فائرنگ میں بعض بنگلہ دیشی شہریوں کی ہلاکت بھی ہے۔

گوتم ہورے کا خیال ہے کہ اگر بھارت انفرا اسٹرکچر اور دیگر ضروری شعبوں میں بنگلہ دیش کی مدد کرے تو دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مودی کے دورے کے خلاف پچھلے دنوں ڈھاکہ میں جو مظاہرے ہوئے تھے اس کی وجہ کچھ لوگوں کی مودی سے ناراضگی ہو سکتی ہے۔

دورے کی اہمیت

وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے،”ان کا یہ دورہ وزیراعظم شیخ حسینہ کی بصیرت افروز قیادت میں بنگلہ دیش کی شاندار اقتصادی اور ترقیاتی کامیابیوں کا نہ صرف اعتراف ہے بلکہ بھارت کی طرف سے ان  کی مسلسل حمایت کے وعدے کا اظہار بھی ہے۔ میں کووڈ انیس کے خلاف بھی بنگلہ دیش کی جنگ میں بھارت کی حمایت اور اتحاد کا اظہار کرتا ہوں۔"

بھارتی خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے مودی کے دورے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا،”26مارچ کی تاریخ کافی اہم ہے کیونکہ اسی دن 'بنگ بندھو‘ نے آزا دی کا اعلان کیا تھا۔ اس لحاظ سے مودی کا دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس دورے میں کتنے معاہدے ہوں گے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی بنگلہ دیش کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ اور شیخ مجیب الرحمان کی صدسالہ سالگرہ تقریبات میں شامل ہو رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں نہ صرف وہاں کے شہریوں نے بلکہ بھارتی فوج نے بھی اپنی جانیں قربان کی تھیں۔


ویڈیو دیکھیے 01:14

ڈھاکا میں مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

 

DW.COM