منی لانڈرنگ بل منظور، کیا عملی اقدامات بھی ہوں گے؟ | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

منی لانڈرنگ بل منظور، کیا عملی اقدامات بھی ہوں گے؟

پاکستان میں قومی اسمبلی نے مالیاتی جرائم کے موثر انسداد کے لئے ’’اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل دوہزار پندرہ‘‘ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ٹیکس فراڈ کے مرتکب افراد کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں یہ بل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منظوری کے لئے پیش کیا۔ ایوان بالا یعنی سینٹ پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکا ہے۔ حکومت اس ترمیمی بل میں انکم ٹیکس او سیلز ٹیکس میں فراڈ کرنے والوں کو شامل کرنا چاہتی تھی لیکن سینٹ میں اپوزیشن ارکان کی مخالفت کی وجہ سے وہ انکم ٹیکس میں فراڈ کو اس ترمیمی بل میں شامل نہیں کرا سکی ۔ تاہم سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات میں فراڈ کرنیوالوں کو اس قانون کے تحت سزائیں دی جاسکیں گی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے پارلیمانی سکیرٹری اور حکمران مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا افضل کا کہنا ہے کہ اس بل کے تحت ہر طرح کی ناجائز آمدن کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ "اقوام متحدہ اور آئی ایم ایف کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہمیں مسلسل کہہ رہہ تھی کہ ہم اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کو دیگر ممالک میں رائج قوانین سے ہم آہنگ کریں ۔"

رانا افضل نے کہاکہ حکومت سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اس نئے بل میں انکم ٹیکس فراڈ کو شامل نہیں کرا سکی لیکن بقول ان کے سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد انکم ٹیکس فراڈ کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

دوسری جانب بعض حلقے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لئے حکومتی اقدامات کو محض ایک نمائشی قدم قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے ایک موقر انگریزی روزنامے "دی نیوز" سے وابستہ تحقیقاتی رپورٹر عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری طور پر موجود چند 'رعایتوں' کی وجہ سے منی لانڈرنگ روکنا ممکن نہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے" اقتصادی اصلاحات تحفظ ایکٹ انیس سو بانوے" کے تحت ایک ایسا قانون متعارف کرایا، جس کے تحت پاکستان میں بیرون ملک سے آنیوالی رقوم کے بارے میں کوئی بھی پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی ۔ عمر چیمہ نے کہا کہ ’’وزیر اعظم نواز شریف کے اپنے معاون خصوصی برائے محصولات ہارون اختر خان کے خلاف اس وقت نیب میں سات سو ملین روپے کے منی لانڈرنگ کے الزامات کی انکوائری ہو رہی ہے۔ یہ رقم انہیں بیرون ملک سے موصول ہوئی اور وہ اس کا ذریعہ بتانے سے قاصر ہیں۔‘‘

اس بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان سے دولت مند افراد اپنی بھاری رقوم ہنڈی یا حوالہ کی مدد سے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں اور پھر وہاں سے وہ رقم بینکنگ چینل کے ذریعے واپس منگوا کر اس رقم کے حصول پر کسی بھی قسم کے سوالات سے بچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کے کئی ممالک میں حوالہ اور ہنڈی کا کام کرنیوالے اصل رقم کا دو فیصد وصول کر کے آپ کی رقم بنکوں کے ذریعے واپس لوٹا دیتے ہیں۔

پاکستان کی ایک معروف ماڈل ایان علی بھی اس وقت منی لانڈرنگ کے الزامات میں ضمانت پر ہیں۔ ان کا مقدمہ اس وقت سے مقامی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں میں ہے جب وہ چند ماہ قبل پانچ لاکھ امریکی ڈالرز اپنے ہینڈ بیگ میں لے کر دبئی جارہی تھیں کہ انہیں اسلام آباد ائیر پورٹ پر کسٹم حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی نیب میں موجود ایک ریفرنس میں منی لانڈرنگ کےحوالے سے ایک اعترافی بیان موجود ہے۔ تاہم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ان سے یہ بیان سابق فوجی آمر کے دور میں زبردستی لیا گیا اور وہ اس کے درست ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

اشتہار