منی لانڈرنگ: الطاف خانانی سے متعلق پاک بھارت تکرار کیوں؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

منی لانڈرنگ: الطاف خانانی سے متعلق پاک بھارت تکرار کیوں؟

بدنامِ زمانہ منی لانڈرر الطاف خانانی گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب افراد میں شامل ہے، تاہم اس کے باوجود اس نے القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم رکھے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان الطاف خانانی ایک تکرار کا نکتہ بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد حکومت کی پاکستان کو دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکلوانے کی کوششوں کو خانانی کی وجہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان نے عالمی مالیاتی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے طالبان پر پابندیاں عائد کر دیں

دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کا بل

الطاف خانانی کو دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب منی لانڈررز میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہ پاکستانی فراڈیا پاکستان، متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں رقوم کی غیرقانونی ترسیل میں ملوث رہا ہے۔ منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کے علاوہ خانانی حزب اللہ اور القاعدہ جیسے دہشت گرد عسکری گروہوں کے لیے بھی پیسہ ترسیل کرتا رہا ہے۔

پانچ ممالک کی ایک وسیع تر کارروائی کے نتیجے میں خانانی کو ستمبر 2015 میں امریکا کے محکمہ برائے انسدادِ منشیات نے پاناما سے گرفتار کیا تھا۔ اسے 68 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تیرہ جولائی کو اسے جیل سے رہائی ملی اور اس کے بعد سے یہ معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہے۔

ایک پاکستانی وزارتی عہدیدار نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ خانانی نیٹ ورک اب فعال نہیں ہے۔ خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل نامی اس گروپ پر پاکستانی حکومت نے پابندی عائد کر دی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حکومت کے اقدامات کے باوجود خانانی اب بھی اپنے آبائی ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کو اپنی گرے لسٹ ہی میں رکھے کیوں کہ اب بھی پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے تفویض کردہ اقدامات کی پاسداری نہیں کی جا رہی اور اب بھی اپنی سرزمین سے سرمائے کی دہشت گردی کے لیے ترسیل کے اعتبار سے پاکستان کو مزید اقدامات کرنا ہیں۔

پیرس میں قائم اس بین الاقوامی مالیاتی واچ ڈاگ ادارے کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ 37 رکن ممالک کے ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اگر پاکستان کو یہ ادارہ بلیک لسٹ کرتا ہے، تو یہ پاکستان کی پہلے سے تباہ حال اقتصادیات کے لیے زہر قاتل ہو گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حال ہی میں نئے قانونی بل بھی منظور کیے گئے ہیں، تاکہ انہیں اس ادارے میں پیش کر کے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوایا جا سکے۔

تفتیشی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم فِن سین FinCEN نے اس سلسلے میں خانانی نیٹ ورک اور پاکستان کے موضوع پر ایک تحقیق شائع کی ہے۔ چار سو سے زائد صحافیوں نے امریکی محکمہ خزانہ کی خفیہ دستاویزات کی سولہ ماہ تک چھان بین کے بعد بز فیڈ نیوز میں بتایا کہ سن 1999 سے 2017 کے درمیانی عرصے میں لیک ہونے والی دستاویزات کی بنا پر ان صحافیوں نے عالمی بینک کے بے ضابطہ افعال اور منی لانڈرنگ کی سطح کے انکشافات کیے۔

اس تفتشی رپورٹ کے مطابق خانانی اور ان کا ادارہ قریب چودہ ارب تا سولہ ارب ڈالر کے لگ بھگ رقوم القاعدہ، حزب اللہ اور طالبان جیسی تنظیموں کو ترسیل کرنے میں ملوث رہا ہے۔

بھارتی اخبار ایکسپریس کے مطابق خانانی بدنام زمامہ انڈرگراؤنڈ ڈان داؤد ابراہیم کا بھی اہم فناسر رہا ہے۔ خانانی ایک طویل عرصے سے داؤد ابراہیم سے تعلق کے شبے میں بھارتی خفیہ اداروں کے نگاہ میں بھی رہا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق داؤد ابراہیم 1993 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملوث تھا، جن میں 257 افراد ہلاک اور 14 سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ع ت / م م / ہارون جنجوعہ (اسلام آباد)، دھاروی وید (نئی دہلی)