منفی کرداروں کی زیادہ پذیرائی کیوں؟ | دستک | DW | 26.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

منفی کرداروں کی زیادہ پذیرائی کیوں؟

چند روز پہلے ملک کے مایہ ناز اداکار نعمان اعجاز کے حالیہ ڈرامے کے کردار سے متعلق کچھ لوگوں کے تاثرات اور تبصرے نظر سے گزرے۔ نعمان اعجاز ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ڈرامے پری زاد میں بہروز نامی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈرامے میں یہ کردار خودکُشی کر لیتا ہے۔ کہانی کے اس موڑ پر کچھ لوگ افسردہ تھے اور کچھ اکتاہٹ کا شکار تھے کہ آخر اتنی جلدی یہ کردار ڈرامے کی کہانی سے کیوں نکال دیا گیا؟ یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ نعمان اعجاز ایک اعلیٰ پائے کے اداکار ہیں اور اپنی جان دار اداکاری سے ہر کردار میں جان ڈال دیتے ہیں۔ لیکن لوگوں کے تبصرے دیکھ کر میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ آخر سامعین منفی کردار کو مثبت کردار کے مقابلے میں ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

اس بات کی تائید نیٹ فلکس پر نشر کی جانے والی مشہور سیریز منی ہائیسٹ سے بھی ہوتی ہے۔ اس سیریز میں برلن کے نام سے ایک کردار تھا، جسے پوری دنیا میں بہت پذیرائی ملی۔ اس کردار کو ادا کرنے والے فنکار کو ایک انٹرویو میں بتایا گیا کہ لوگوں نے ان کے کردار کو بے حد سراہا ہے اور وہ انہیں آگے بھی اس سیریز میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

 اس اداکار نے پہلے تو اپنی پذیرائی کے لیے شکریہ ادا کیا اور پھر اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لوگ اس کردار کو سراہا رہے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے مداحوں کو تاکید بھی کی کہ وہ اس کردار کو سراہانے سے اجتناب کریں۔ اس لیے کہ وہ ایک پاگل شخص کا منفی کردار ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کسی کو وہ کردار پسند ہے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

یہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اداکار کی اداکاری کے جوہر کو سراہا جائے تو کیا برا ہے اور میں اس بات سے متفق بھی ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سامعین کی پسندیدگی صرف اداکاری کی بنیاد پر کم ہی ہوتی ہے۔

 دراصل ہر شخص کہیں نہ کہیں ان منفی کرداروں کے اندر وہ شخصیت دیکھتا ہے، جو وہ بننا چاہتا ہے۔ یہ کردار ہر شخص کو وہ شخصیت دکھاتے ہیں، جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا ہوتا ہے یا ان کی حسرت ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنی اس حسرت کا شعوری طور پر احساس بھی نہ ہو اور ان کے لاشعور میں یہ خواہش کہیں پنپ رہی ہو۔

 منفی کردار کو طاقت کا استعمال کرتے دیکھ کر اکثریت کو وہ لمحے یاد آتے ہیں، جب کسی طاقتور نے انہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر دبایا تھا۔ اس منفی کردار کے پاس موجود پیسہ اور آسائشیں دیکھ کر کوئی اپنی ناتمام آرزوؤں کے حصار میں جکڑا جاتا ہے تو کسی کو اس کی شاطر ذہنیت اور مجرمانہ منصوبہ سازی کی صلاحیت میں ایک کشش محسوس ہوتی ہے۔

ذرا غور کیجیے تو ڈرامہ پری زاد میں بہروز نام کے کردار نے ڈرامے میں دو لوگوں کا قتل کیا اور مرکزی کردار اس کے اس عمل پر پردہ ڈالتا ہے۔ دیکھا جائے تو دونوں نے ہی غلط کیا اور کسی بھی کہانی میں ناظرین کا ایک نارمل ردعمل تو یہ ہونا چاہیے کہ غلط کرنے والا اپنے کیفر کردار تک پہنچے۔ لیکن ہمیں اپنے معاشرے میں حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

 ہم ایسے کرداروں کو کہانی میں مزید دیکھنا چاہتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ انہیں کبھی مات نہ ہو۔ دیکھا جائے تو یہ کمال ان لکھاریوں کا ہے، جو ایسا کردار لکھتے ہیں۔ ان کی آنکھ انسان کے اندر چھپے ہوئے ان تاریک پہلوؤں سے واقف ہوتی ہے، جو ہم باہر کی دنیا سے چھپاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار انسان خود بھی اپنے لاشعور کے ان خفیہ گوشوں سے ناواقف ہوتا ہے۔

دراصل جب ہم ایسے کسی طاقتور کردار کو دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر جو کیمیکل پیدا ہوتے ہیں وہ خوف کی حالت میں پیدا ہونے والے کیمیکل ہیں۔ لیکن بظاہر ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کیفیات خوف کی ہیں یا کشش کی۔

 اس کا نفسیاتی پہلو دیکھا جائے تو طاقتور اور بااثر کردار میں انسان کو کشش محسوس ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں مایہ ناز ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ کا کہنا ہے کہ انسان فطری طور پر غیر سماجی ہے اور منفی فطرت رکھتا ہے لیکن سماجی دباؤ میں اپنی فطرت کے منفی پہلو چھپائے رکھتا ہے۔ اسی لیے جب ہمیں منفی کردار نظر آتے ہیں تو ہم ان کی طرف کشش محسوس کرتے ہیں۔

دنیا میں ہر چیز ارتقاء کے عمل سے گزرتی ہے۔ انسان کے حالات و واقعات اور اس پر لئےگئے فیصلے اس کے ارتقائی سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی منفی کردار دیکھ کر کشش محسوس ہو یا خود سے مطابقت لگے تو سوچیے گا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم اس منفی کردار کے تاریک پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں یا پھر ہم اسے غلط سمجھتے ہی نہیں۔ انسانی دماغ بہت پیچیدہ ہے اور اسے سمجھنے کے لیے دوسروں سے پہلے ہمیں خود پر غور کرنا پڑے گا۔