منظور پشتین سے کچھ سوال اور ان کے جواب | حالات حاضرہ | DW | 26.04.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

منظور پشتین سے کچھ سوال اور ان کے جواب

’پشتون تحفط موومنٹ‘ اور حکومتی جرگے کے مابین ابتدائی ملاقات ہو چکی اور اب وہ تحریک کے ارکان سے مشاورت کے بعد مذاکرات شروع کریں گے۔ اس پیش رفت کے بعد منظور پشتین کی ڈی ڈبلیو کے نمائندہ مدثر شاہ سے گفتگو۔

ویڈیو دیکھیے 04:19

منظور پشتین سے کچھ سوال اور ان کے جواب

ڈی ڈبلیو: مذاکرات کس سے ہو رہے ہیں اور کس کے کہنے پر شروع ہوئے؟
منظور پشتین:
ہمارے مطالبات ریاست سے ہیں۔ ہم نے جرگے سے پوچھا کہ ریاست کی نمائندگی کس کے پاس ہے اور جرگہ کتنا بااختیار ہے؟ لیکن انہوں نے ہمیں اس بات کا جواب ابھی نہیں دیا۔ یہ جرگہ فی الحال چند قبائلی مشیروں پر مشتمل ہے، ہم انہی سے ملے۔ جرگے کو بتایا ہے کہ فی الحال اپنی مشاورت کے لیے اپنی کمیٹی بنائیں گے، اس کے بعد انہیں بتائیں گے کہ ہم  مذاکرات کا عمل کس طریقے سے اور کس کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔

 

ڈی ڈبلیو: کیا فوج کے کسی اہلکار سے سے براہ راست ملاقات بھی ہوئی؟
منظور پشتین:
نہیں، بعد میں تو نہیں لیکن دھرنے کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر، اور شاید آئی ایس آئی کے سربراہ بھی تھے، ملاقات ہوئی تھی۔ وہاں ہم نے ان سے بات کی تھی اور انہوں نے غور سے سنا بھی تھا۔ ہم نے سب کچھ بتایا، لوگوں میں جو غم و غصہ، شکوک و شبہات اور شکایات پائی جاتی ہیں، سب بتائی گئیں۔ وزیر اعظم کے سامنے بھی میں نے مقدمہ بہت اچھے انداز سے پیش کیا تھا۔ تاہم معلوم نہیں کس کے سامنے، لیکن سب بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
 

ڈی ڈبلیو: مذاکرات کے باجود مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیوں کیا گیا؟
منظور پشتین:
جب جرگے کے باوجود ہمارے لوگوں کی پکڑ دھکڑ اور ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے تو آپ بتائیے مناسب کیا ہوتا ہے۔ اپنے ایسے پشتون کارکنوں کو، جو تحریک کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ہم ان کو بھول جائیں، یہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہم تو ان کی حفاظت کی بات کریں گے۔ ہم نے کل بھی ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اگر کسی کو ریاست سے تکلیف ہو اور وہ احتجاج کی صورت میں ریاست کے سامنے مانگیں پیش کرے تو یہ تو آئینی بات ہے۔ اسی لیے ہم احتجاج کر بھی رہے ہیں اور ریاست تک موقف پہنچانے کے لیے ہمیں اس کی ضرورت بھی ہے۔ 
 

ڈی ڈبلیو: کون سی سیاسی جماعتیں آپ کی تحریک کی حمایت کر رہی ہیں؟
منظور پشتین:
ہماری تحریک اور ہم لوگ نیوٹرل ہیں۔ اس سوال کا جواب دینا میرے لیے مشکل ہے۔ بہرحال ہم اپنی طرف سے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ، جنہوں نے حمایت کی یا نہیں کی، ہم ہر کسی سے خوش ہیں۔ یہ قومی تحریک ہے، لوگ غم و مصیبت میں ہیں اور اس کا اندازہ لوگوں کے اس طرح اچانک باہر نکلنے سے بھی ہوتا ہے۔

 

ڈی ڈبلیو: آپ جن سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ برابری کی بنیاد پر آپ سے مذاکرات کریں گے؟
منظور پشتین:
ان کی ٹون سے تو نہیں لگتا کہ ہمیں برابر سمجھیں گے۔ ہم ہر بنیاد پر اگر ہمارے مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں، تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارا ارمان ہے کہ پرامن طریقے سے ہمارے مسئلے حل ہو جائیں، اور اللہ کرے ہو جائیں۔ لیکن جس ٹون کے ساتھ وہ ہمیں مخاطب کرتے ہیں، وہ کوئی بھی باشعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ برابری کی ہے یا نہیں۔
 

ڈی ڈبلیو: مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟

منظور پشتین: ہم کوشش کریں گے کہ ہم اپنے طور پر اپنے غم اور فریاد کو پیش کریں، شاید لوگ سمجھ جائیں۔ لوگوں کے ذہن میں غم اور فریاد کو پیش کرنا غداری کے زمرے میں نہ آئے۔ ایجنٹوں اور جاسوسوں کے الزامات کسی کے آنسوؤں کی ترجمانی کے لیے استعمال نہ ہوں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہم اپنی کہانی دہرا دہرا کر بتاتے رہیں۔ ہم پہاڑوں کے لوگ زیادہ بناوٹی الفاظ تو شاید نہ جانتے ہوں، لیکن اتنا ہے کہ ہمارے سادہ الفاظ میں اس معاملے کو خدارا سمجھو۔

 

ڈی ڈبلیو: آپ کے خیال میں ریاست مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے؟
منظور پشتین:
لاہور جلسے سے پہلے ایک بوڑھی عورت سمیت پی ٹی ایم کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ان سے کیا کیا پوچھا گیا اور کون پوچھ رہے تھے؟ دو میجر اور اداروں کے اہلکار بیٹھے ہوئے تھے اور پولیس والوں نے تو بات بھی نہیں کی۔ میں نے اس وقت بھی ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ اگر پہلے ہی وعدے کی خلاف ورزی ہو گی تو ایسے مذاکرات کو ملتوی کر دیا جانا چاہیے۔
اگلے روز احتجاج کی کال دی گئی تھی تو حیدرآباد میں کچھ دوستوں کو گرفتار اور بے پناہ تشدد کیا گیا۔ اسی روز کراچی میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور اگلے روز ان کی رہائی کے لیے میٹنگ کرنے والے پی ٹی ایم کے بارہ دیگر کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، جو اب تک حراست میں ہیں۔
ایک طرف گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ۔ لاہور میں خاص طور پر پشتون طالب علم کو شدید دہشت زدہ کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں جو کچھ پشتون طلبا کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک طالب علم کو پستول کی گولی بھیجی گئی، اس پیغام کے ساتھ کہ آپ بہت متحرک ہیں، آپ کے خلاف آئندہ ہم یہ استعمال کریں گے۔
سوات میں اداروں والے آتے ہیں اور ہمارے کارکنوں کی تصویریں کھینچتے ہیں اور انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہم دیکھ لیں گے۔ ایک طرف تو پر امن ریلیوں کو بند کرنے کا طریقہ بھرپور اور پوری دل لگی کے ساتھ ہر جگہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مذاکرات کی بات ہو رہی ہے اور وہ بھی جرگے کو معلوم نہیں کہ مذکرات کس کے مابین ہو رہے ہیں اور جرگے کے اختیارات کیا ہیں۔
پی ٹی ایم کا یہ موقف کبھی نہیں رہا کہ چیک پوسٹس ختم کر دیں۔ بلکہ موقف یہ ہے کہ چیک پوسٹوں پر بہتر سلوک روا رکھا جائے۔ لیکن نارتھ وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ ایسے علاقوں میں بھی جاری ہے جو مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ فوج خود ان علاقوں سے طالبان کو ختم کرنے کا دعویٰ بھی کر چکی ہے۔ ہمارا رویہ انتہائی سنجیدہ ہے، اور چیزوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، لیکن دوسری جانب سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔

ویڈیو دیکھیے 01:54

’ملک بھر میں دھرنے بہت منظم طریقے سے دیے گئے ہیں‘

 

DW.COM

Audios and videos on the topic