منشیات اور شراب ایک ساتھ، خواتین کے لیے غیرمحفوظ سیکس کا موجب | صحت | DW | 20.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

منشیات اور شراب ایک ساتھ، خواتین کے لیے غیرمحفوظ سیکس کا موجب

ایک امریکی مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شراب اور منشیات کا ایک ساتھ استعمال نوجوان لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں میں ’غیرمحفوظ سیکس‘ کے خطرات کے اعتبار سے زیادہ آگے دیکھا گیا ہے۔

میساچوسٹس کے کالج آف دی ہولی کراس ورسٹر کی اس مطالعاتی رپورٹ کے مصنف جُمی ہایاکی کے مطابق، ’’یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین خصوصاﹰ ایسی حالت میں زیادہ کم زور ہوتی ہیں، جس کے غیرمحفوظ جنسی تعلق کی صورت میں منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔‘‘

برلن: پارٹیاں کرنے والے نصف افراد ایمفیٹامینز استعمال کرتے ہیں

پاکستان میں چرس پینے کا حیرت انگیز رجحان

ہایاکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک ای میل میں لکھا، ’’ہمارے نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ مرد کم از کم غیرمحفوظ جنسی تعلق کے معاملے میں خواتین کے مقابلے میں بہتر رویے کے حامل دیکھے گئے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ کے نتائج کے مطابق 18 تا 25 برس کی عمر کی ایسی خواتین جو ایک ہی دن میں شراب اور چرس کا استعمال کریں،عام دنوں(ایسے دن جب ایسا کوئی نشہ استعمال نہ کیا جائے) غیرمحفوظ جنسی تعلق کے اعتبار سے تین گنا زیادہ خطرے کا شکار ہوتی ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف پاٹ پینے والی خواتین میں غیرمحفوظ سیکس کی شرح میں 89 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ صرف شراب پینے والی لڑکیوں میں غیرمحفوظ جنسی تعلق کے خطرات عام حالات کے مقابلے میں دوگنا ریکارڈ کیے گئے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی عمر کے مردوں میں شراب یا ماریجوانا کے استعمال اور غیرمحفوظ سیکس کے درمیان زیادہ تعلق نہیں ملا ہے۔ رپورٹ میں تاہم کہا گیا ہے کہ شراب اور ماریجوانا کا استعمال ایک ہی دن کرنے والے مردوں میں غیرمحفوظ جنسی تعلق کی شرح عام دنوں کے مقابلے میں 71 فیصد زیادہ دیکھی گئی ہے۔

اس مطالعاتی رپورٹ میں 290 نوجوان بالغوں کے شراب، چرس اور کونڈم کے بغیر جنسی تعلق کی سرگرمیوں کو 90 روز تک ریکارڈ کیا گیا۔

ع ت، ع ح (روئٹرز)

DW.COM