’مندر کی مثبت توانائی حیض والی خواتین سے آلودہ ہو سکتی ہے‘ | وجود زن | DW | 17.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

’مندر کی مثبت توانائی حیض والی خواتین سے آلودہ ہو سکتی ہے‘

بھارت میں آج سبریملا مندر کے دروازے باقاعدہ طور پر خواتین کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ تاہم مندر کے حکام اور کچھ انتہا پسند پیروکاروں نے خواتین کی آمد کو روکنے کا عندیا دیا ہے۔

بھارت میں سپریم کورٹ نے اس سال ستمبر میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ہندوؤں کے نزدیک مقدس سمجھے جانے والے کیرالہ کے سبریملا مندر کے دروازے ہر عمر کی خواتین کے لیے کھولنے کا حکم دیا تھا۔ آج بدھ کو اس فیصلے پر عمل در آمد کرتے ہوئے مندر کو خواتین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس موقع پر جنوبی بھارت میں پولیس ہائی الرٹ ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ہزاروں افراد نے بھارتی ریاست کیرالہ میں قائم سبریملا مندر میں خواتین کے جانے پر پابندی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔

بارہویں صدی سے جنوبی صوبہ کیرالہ کے دارالحکومت ترواننت پورم سے 175 کلومیٹر دور واقع سبریملا مندر میں دس سے پچاس برس کی عمر(حیض آنے کی عمر) کی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ صرف چھوٹی بچیاں یا بزرگ خواتین ہی اس مندر میں جا سکتی ہیں۔ ہندووں کا عقیدہ ہے کہ اس مندر میں جس دیوتا کی پوجا کی جاتی ہے، وہ برہم چاری (مجرد) تھے اور چونکہ حیض کے دوران عورت ناپاک ہوجاتی ہے اس لیے اگر حائضہ عورت مندر میں چلی گئی تو بھگوان ناراض ہوجائیں گے اوربہت کچھ نقصان ہو سکتا ہے۔ مندر انتظامیہ کی دلیل تھی کہ مندر میں جانے سے قبل اکتالیس دنوں کے ’برہم چریہ‘ پر عمل کرنا پڑتا ہے اور عورتیں اس پر عمل نہیں کر سکتیں۔

اس مندر میں خواتین کی آمد پر صدیوں پرانی پابندی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت میں آج بھی حیض کے دوران خواتین کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ دنوں سے بھارت کے روایتی لباس ساڑھیوں میں ملبوس خواتین پہاڑی پر قائم مندر کی طرف جانے والی سڑکوں پر گاڑیوں کو روکتی ہیں تاکہ کوئی عورت اوپر مندر نہ جا سکے۔ ان خواتین نے کچھ خواتین صحافیوں کو بھی مندر نہ جانے دیا۔ بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق سٹرک پر گاڑیاں روکنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو نیلاکل نامی مقام سے آگے بڑھنے نہیں دیں گی۔

 مندر کے 25 سالہ پنڈت کندارارو ماہیشوارارو تنتری نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک دھمکی آمیز پیغام میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پائے جانے والا غصہ تشدد میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے اگر  چند انا پسند عورتوں نے مندر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تنتری نے کہا کہ انہوں نے انا پسند کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیوں کہ کوئی بھی سبریملا کا پیروکار 2100 سال پرانے قانون کو توڑنے کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں۔

 پنڈت کندارارو ماہیشوارارو تنتری کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی ’سائنسدان‘ یہ کہہ چکے ہیں کہ مندر میں موجود ’مثبت توانائی‘ حیض والی خواتین کی آمد سے آلودہ ہو سکتی ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے کیرالہ میں سپریم کورٹ کے خلاف کئی احتجاجی مظاہروں کو حمایت فراہم کی ہے۔ لیکن اس ریاست کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجاین نے کہا ہے کہ کسی کو سبریملا کے پیروکاروں کو مندر جانے سے روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیرالہ پولیس کے ترجمان پرامود کمار کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور صورتحال کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

قتل کی دھمکیاں ملنے کے باوجود سماجی کارکن تروپتی دیسائی کا کہنا ہے کہ خواتین کو مندر جانے کا آئینی حق حاصل ہے اور کوئی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔ دو سال قبل خواتین کو مندروں میں جانے کی اجازت دیے جانے کے علمبرداروں کی کوششوں سے بھارتی ریاست مہارشٹرا میں قائم شانی شنگناپور مندر میں خواتین کو جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ 2016ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی حاجی علی درگاہ میں بھی خواتین کو جانے کی اجازت دینے کا حکم سنایا تھا۔

DW.COM