ممنوعہ پاکستانی عسکری تنظیموں کے لیے رقوم، چھ افراد گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 25.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ممنوعہ پاکستانی عسکری تنظیموں کے لیے رقوم، چھ افراد گرفتار

پاکستانی پولیس نے ممنوعہ عسکریت پسند تنظیموں کے لیے مالی عطیات جمع کرنے والے چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے مطابق یہ ملزمان جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے لیے رقوم جمع کرتے تھے۔

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں ملتان شہر سے ہفتہ پچیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق صوبائی پولیس کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے ایک اعلیٰ اہلکار محمد اشرف نے بتایا کہ ان مبینہ ملزمان کو پنجاب میں دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی روک تھام کے لیے جاری کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیا گیا۔

اس اہلکار نے بتایا کہ گرفتار شدگان کی تعداد چھ ہے اور وہ جیش محمد اور لشکر جھنگوی نامی غیر قانونی قرار دی جا چکی عسکریت پسند تنظیموں کے لیے مالی وسائل جمع کرتے تھے۔ محمد اشرف نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کے قبضے سے عطیات کے طور پر جمع کی گئی جو رقوم سرکاری قبضے میں لے لی گئیں، ان کی مالیت کتنی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں کشمیر کے متنازعہ اور منقسم خطے کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں اس سال فروری کی 14 تاریخ کو پلوامہ میں بھارتی سکیورٹی دستوں کے ایک قافلے پر جو خود کش بم حملہ کیا گیا تھا، اس میں کم از کم 40 بھارتی نیم فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

Indien Pulwama - Anschlag auf Bus an der Autobahn Srinagar-Jammu

پلوامہ خود کش حملے میں چالیس بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

اس دہشت گردانہ حملے کی ذمے داری جیش محمد نے قبول کر لی تھی، جس کے بارے میں بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ عسکریت پسند تنظیم پاکستان میں اپنے ٹھکانوں سے بھارت میں خونریز حملے کرتی ہے۔

پلوامہ میں یہ دہشت گردانہ حملہ پاکستان اور بھارت کے مابین نئے سرے سے شدید ترین کشیدگی کی وجہ بنا تھا اور چند روز کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی ایک بار پھر ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

پاکستان میں جن دو ممنوعہ عسکریت پسند تنظیموں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے الزام میں نصف درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں سے جیش محمد وہ تنظیم ہے، جس کے سربراہ کا نام اسی مہینے اقوام متحدہ نے دہشت گردوں کی اپنی عالمی فہرست میں بھی شامل کر دیا تھا۔

دوسری غیر قانونی تنظیم لشکر جھنگوی ہے، جو شدت پسند سنی مسلمانوں کا ایک کالعدم قرار دیا گیا گروہ ہے۔ یہ فرقہ ورانہ تنظیم ماضی میں بہت سے دہشت گردانہ واقعات میں پاکستان کی شیعہ مسلم اقلیت کے ارکان کے قتل میں ملوث رہی ہے۔

م م / ع ا /  اے پی

DW.COM