ملک چھوڑنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ | معاشرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملک چھوڑنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ

وسطی اور مشرقی بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے ایسے پاکستانیوں کی تعداد میں سن دو ہزار سولہ سے اضافہ ہو رہا ہے، جو یورپ میں روزگار اور سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔

ایسے افراد میں سے زیادہ تر تعلق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہے جب کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے مشرقی یورپ کا رخ کیا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی طرف سے اٹلی میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق سن دو ہزار سولہ میں 72 فیصد افراد اس ملک میں پنجاب سے آئے جب کہ دو ہزار سترہ میں ایسے افراد کی شرح 76 فیصد رہی۔
کئی ماہرین کے خیال میں اچھے مستقبل کی تلاش وہ محرک ہے، جو ہزاروں پاکستانیوں کو پر خطر سفر کر کے یورپ جانے پر مجبور کرتا ہے۔ پنجاب کے علاقے پنڈی بھٹیاں کے میاں غلام شبیر بھی ایسے افراد میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر ایسا ہی ایک سفر طے کیا لیکن دو برس بعد وہ واپس آگئے۔ انہوں نے اپنے سفر کی کہانی ڈی ڈبلیو کو سناتے ہوئے بتایا، ’’میں نے دو ہزار چودہ میں یورپ جانے کے لئے ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا اور ہم دو ہزار پندرہ میں اس سفر کے لئے نکلے۔ سب سے پہلے ہمیں کراچی لے جایا گیا، وہاں سے جیوانی اور پھر جیوانی سے ایران۔ ایران اور ترکی کے راستے میں ایک پہاڑی علاقہ ہے، جہاں گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اگر وہاں کوئی بیمار ہو جائے تو ایجنٹ اور ان کے کارندے گلہ دبا کر مار دیتے ہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے پندرہ لاشیں ان پہاڑوں پر دیکھی تھیں۔ پھر وہاں سے ہمیں ترکی پہنچا دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ترکی میں ہی رک جاتے ہیں لیکن زیادہ تر کی کوشش ہوتی ہے کہ ترکی سے اٹلی یا یونان چلے جائیں اور وہاں سے یورپ کے دوسرے ممالک۔ ترکی پہنچ کر جب روزگار مل جاتا ہے تو ایجنٹ کو بقیہ رقم دینی پڑتی ہے۔ ہم بیس افراد گئے تھے اور ہم نے فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے دیے تھے۔ دو سال رہنے کے بعد میں اس سال کے شروع میں بیمار پڑ گیا اور مجھے واپس آنا پڑا۔ واپس آیا تو ایف آئی اے والوں نے گرفتار کر لیا۔ میں نے انہیں ایجنٹوں کے بارے میں سب کچھ بتایا لیکن انہوں نے الٹی مجھ سے رشوت لی اور ایجنٹوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگا یا کیونکہ اوپر سے نیچے تک سب ملے ہوئے ہیں۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں میاں شبیر نے کہا، ’’مجھے ترکی میں اچھی نوکری مل گئی تھی اس لئے میں آگے نہیں گیا لیکن میرے ساتھ کے دس افراد اٹلی اور یونان میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ آٹھ ساتھی اب بھی ترکی میں ہیں جب کہ میں اور میرا ایک دوست واپس آگئے تھے۔ اب میں قانونی طریقے سے دوبارہ ترکی جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر میں کامیاب ہوگیا تو مجھے بہت اچھی اجرت مل سکتی ہے۔‘‘
عموما پسماندہ علاقے سے لوگوں میں ہجرت کا زیادہ رجحان ہوتا ہے لیکن پاکستان میں پنجاب، جو نسبتا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں خوشحال ہے، یہاں ہجرت کا زیادہ رجحان ہے۔ اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کہتے ہیں کہ پنجاب کے لوگ نسبتا زیادہ محنتی ہوتے ہیں اور رسک لینا بھی جانتے ہیں۔ اس لئے آپ کو دنیا کے کئی ممالک میں پنجابی محنت کش ملیں گے۔ان کے خیال میں اس ہجرت کی اصل وجہ روزگار کے مواقع کی عدم فراہمی ہے،’’پاکستان کی آبادی میں ہر سال تیس لاکھ نوجوانوں کا اضافہ ہو رہا جب کہ ہم روزگار کے مواقع اتنی ہی تیزی سے فراہم نہیں کر پا رہے۔ کئی برسوں سے ملک میں بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں کیونکہ بجلی کا بحران تھا۔ اس کے علاوہ ہزاروں صنعتیں بیمار ہیں اور بند پڑی ہوئی ہیں۔ ایسے میں نواجوان اگر باہر نہیں جائیں تو پھر کیا کریں گے۔کیونکہ ایسے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پنجاب میں ہے اس لئے یہاں سے ہجرت کی شرح بھی زیادہ ہے۔‘‘


ایف آئی اے کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا، ’’اوپر سے نیچے تک لوگ انسانی اسمگلنگ کے اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ گجرات، گوجرانوالہ اور منڈی بہاوالدین سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں انسانی اسمگلر سر گرم ہیں۔ چوہدری نثار کے دور میں ان کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوا تھا لیکن اب تو حکومت خود اپنے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ کیا اس مسئلے کے بارے میں سوچے گی۔‘‘
ن لیگ کے رہنما اور خانیوال سے رکنِ قومی اسمبلی اسلم بودلہ کے خیال میں حکومت نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا ہے، ’’سچی بات یہ ہے کہ ہماری اس میں کوتاہی ہے۔ ہم نے اس مسئلے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے ہم نے لون اسیکم شروع کی لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ جب تک ہم بڑے پیمانے پر روزگار فراہم نہیں کرتے ، یہ مسئلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کوئی حکومت اس کو نہیں روک سکتی۔‘‘
سماجی علوم کے ماہرین کے مطابق روزگار سب سے بڑا محرک ہے لیکن بلوچستان، کے پی کے اور فاٹا سے دوسرے ممالک کی طرف نوجوانوں کی ہجرت امن وامان کی وجہ سے بھی ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جب سے بلوچستان میں دہشت گردی بڑھی ہے، ایک لاکھ سے زیادہ ہزارہ نوجوانوں نے یورپ اور دوسرے خطوں کا رخ کیا ہے۔ ہماری قوم کی کئی ماوں نے اپنے زیور بیچ کر اپنے بیٹوں کو باہر بھیجا۔ تو جہاں تک ہماری قوم کو تعلق ہے، تو سلامتی ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہجرت کا بھی سب سے بڑا سبب سلامتی ہے۔‘‘

DW.COM

اشتہار