ملائیشیا کے سابق نائب وزیر اعظم انور ابراہيم رہا | حالات حاضرہ | DW | 16.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملائیشیا کے سابق نائب وزیر اعظم انور ابراہيم رہا

ملائیشیا میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے معافی ملنے کے بعد سياست دان اور سابق نائب وزير اعظم انور ابراہيم جیل سے رہا ہو گئے ہیں۔ اب وہ سياست ميں بھی دوبارہ حصہ لے سکتے ہيں۔

انور ابراہيم کو کوالالمپور کے ايک ہسپتال سے رہائی ملی جہاں وہ کندھے کی تکليف کے سبب زیر علاج تھے۔  ان کی پارٹی کے ترجمان کے مطابق رہائی کے بعد وہ ملائیشیا کے بادشاہ سے ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے جس کے بعد امید ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی سیاسی ریلی سے بھی خطاب کریں گے۔

انور ابراہیم کو سن 2015ء میں ہم جنس پرستی کے الزامات کے تحت سزائے قید سنائی گئی تھی۔ نو منتخب وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ اُس وقت کی حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو کچلنے کے لیے من گھڑت الزامات لگا کر انور ابراہیم کو جیل بھیجا گیا تھا۔

Malaysia Premierminister Anwar Ibrahim (AP)

لواطت کے الزام میں انور ابراہیم کی سزا برقرار

جنسی بدفعلی کا سفارتی مراسلہ سازش ہے، انور ابراہیم

یہ دوسرا موقع تھا کہ انور ابراہیم کو جیل بھیجا گیا۔ وہ حالیہ انتخابات میں شکست سے دو چار ہونے والی سیاسی جماعت کی حکومت میں نائب وزیر اعظم رہے تھے۔ قبل ازیں وہ مہاتیر محمد کے ساتھ طاقت کی رسا کشی کے نتیجے میں 1998ء میں جیل گئے تھے۔ انور ابراہیم اور مہاتیر محمد نے غیر متوقع طور پر سیاسی اتحاد کر لیا تھا جس کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے ان انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی۔

انور ابراہیم فوری طور پر حکومت میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس مقصد کے لیے پہلے انہیں انتخاب لڑ کر پارلیمان کا حصہ بننا ہو گا۔ غیر متوقع انتخابی نتائج کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ اب انور ابراہیم کی رہائی ملک میں سیاسی طور پر نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی۔

ع ف / ا ب ا (اے ایف پی)

DW.COM