ملائشیا کی حجاب والی پہلوان، حدیں توڑتی ہوئی | معاشرہ | DW | 17.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ملائشیا کی حجاب والی پہلوان، حدیں توڑتی ہوئی

ملائشیا کی ’فینکس‘ کے نام سے مشہور خاتون پہلوان مردوں کی برتری کے حامل سمجھے جانے والے اس کھیل میں حجاب پہنے میدان میں اترتی ہیں، مگر وہ کئی مفروضے غلط ثابت بھی کر رہی ہیں۔

خاتون پہلوان کے ٹراؤزر پر آگ کے شعلوں کی تصویر ہے اور وہ سیاہ اور نارنجی رنگ کے حجاب اور شرٹ کے ہم راہ رِنگ میں آتی ہیں۔ نودیانا کو ملائشیا میں لوگ 'فینکس‘ کے نام سے جانتے ہیں اور وہ نہایت ماہرانہ انداز سے داؤ پیچ لگاتی نظر آتی ہیں اور خود سے بڑے حریفوں کو سینکڑوں تماشائیوں کے سامنے  پچھاڑ  دیتی ہیں۔

ایران، حجاب اتار پھینکنا مزاحمت کا نشان؟

اسلامی پردے پر جرمن کانفرنس تنازعات کا شکار

155 سینٹی میٹر (پانچ فٹ ایک انچ) قد اور صرف 43 کلوگرام وزنی 'فینکس‘ اپنے پھرتی اور تیزی کی وجہ سے قریب ہر حریف کو تگنی کا ناچ نچا چکی ہیں۔

قدامت پسندوں کی جانب سے اس 19 سالہ پہلوان کو اس شعبے میں پنجہ آزامائی پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر انہیں زبردست پزیرائی مل رہی ہے، جب کہ ان کے موضوع گفت گو بن جانے کی ایک وجہ ان کا حجاب پہننا بھی ہے۔

اپنی تازہ لڑائی جیتنے کے بعد اس خاتون پہلوان کا کہنا تھا، ''گو کہ میں مسلمان ہوں اور حجاب پہنتی ہوں، مگر مجھے کوئی اس سے نہیں روک سکتا، جو میں کرنا چاہتی ہوں۔

'فینکس‘ اب ملائشیا کی پروفیشنل (ریسلنگ  مارئی پرو ریسلنگ) میں حصہ لے رہی ہیں۔ پہلوانی کا یہ مقابلہ امریکا کے مشہور زمانہ ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ سے ملتا جلتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ای کی طرح ملائشیا کا یہ پہلوانی کا مقابلہ بھی اسپورٹس کے ساتھ ساتھ کسی تھیٹر ڈرامے سے ملتا جلتا ہے، کیوں کہ ان میں بھی حریف ایک دوسرے کے مدمقابل تو آتے ہیں، تاہم لڑائی کے نتائج پہلے سے طے ہوتے ہیں۔

نور دیانا یعنی فینکس اس پہلوان کا اصل نام نہیں ہے۔ اس پہلوان نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے اجتناب برتا۔ میدان سے باہر تاہم فینکس نہایت نرم لہجے میں گفت گو کرنے والی ہیں اور ایک ہسپتال میں نوکری کرتی ہیں۔ لیکن جب وہ اپنا پہلوانی کا لباس زیب تن کر لیتی ہیں، تو ایک بالاکل ہی مختلف انسان نظر آتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ''فینکس کے طور پر میں ایک مختلف انسان ہوں۔ جو چھوٹی تو ہے، مگر وہ کچھ کر سکتی ہے، جو کوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘

ع ت، ک م (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM