مقدونیا کے بعد تارکین وطن کا سیلاب ہنگری کی طرف | حالات حاضرہ | DW | 25.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقدونیا کے بعد تارکین وطن کا سیلاب ہنگری کی طرف

سربیا سے یورپی یونین کے سرحدی علاقوں میں ایک بار پھر تارکین وطن کی بڑی تعداد کی آمد یورپی رہنماؤں کی تشویش اور پریشانی میں اضافے کا باعث بن گئی ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق پیر کی شب لگ بھگ 2,093 تارکین وطن سربیا سے ہنگری کے شہر رسکا کی نزدیکی سرحد پار کر کے یورپی یونین کے ممبر ملک ہنگری میں داخل ہو گئے جبکہ ابھی چند روز قبل ہی ہنگری نے ایک سرحدی باڑ لگا کر تارکین وطن کے بہاؤ کو روکنے کے اقدامات کیے تھے۔

گزشتہ ہفتے مقدونیا نے اپنی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کے ساتھ تارکین وطن کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سرحدی علاقے بلاک کر دیے تھے جس کے سبب قریب سات ہزار تارکین وطن کو روکا جا سکا تھا۔ حالیہ دنوں میں یورپی ممالک کی طرف اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کا مہاجرین کے مسائل سے متعلق بدترین بحران قرار دیا جا رہا ہے۔

پیر کی شب ہنگری کی سرحد تک پہنچنے والے تارکین وطن میں سے متعدد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے بتایا کے وہ یونان کے ساتھ ملحقہ مقدونیا کی سرحد پار کر کے سربیا میں داخل ہوئے جہاں سے ہنگری کی سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

Serbien Ungarn Flüchtlinge am Grenzübergang bei Roszke

سربیا سے ہنگری کی جانب

عراقی شہر موصل سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ ایک آئی ٹی اینجینیئر نے اپنے بیان میں کہا،’’ ہمیں مقدونیا میں روک کر دو روز تک رکھا گیا۔ وہاں پولیس کے ساتھ ہونے والا تصادم بہت خوفناک تھا۔ پولیس ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کر رہی تھی۔ میں نے پولیس کے ہاتھوں ایک معمر خاتون کی پٹائی ہوتے دیکھی اُس خاتون سے اُس کے پیسے اور کاغذات بھی چھین لیے گئے تھے‘‘۔ موصل کا یہ شہری اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے ظلم و ستم سے بچ کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے مہاجرت پر مجبور تھا۔ اس نے بیان اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیا۔

2015 ء میں ہنگری اب تک اپنے ہاں آنے والے ایک لاکھ پناہ کے متلاشی افراد کا اندراج کر چُکا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس ہنگری آنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی کُل تعداد کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جبکہ 2012 ء میں ہنگری آنے والے ان افراد کی تعداد محض 2,000 تھی۔

Serbien Ungarn Flüchtlinge am Grenzübergang bei Roszke

پناہ کے متلاشی افراد سر گرداں

ہنگری کی قدامت پسند حکومت نے رواں ماہ سربیا کے ساتھ ملحقہ اپنی جنوبی سرحد پر خاردار باڑ نصب کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غیر قانونی تارکین وطن یا پناہ کے متلاشی افراد کی مزید آمد کو روکا جا سکے۔ اس اقدام کے باوجود ایک دن کے اندر ڈیڑھ ہزار پناہ گزین ہنگری کی سرحدوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پیر کو سربیا سے ہنگری کی سرحدوں میں داخل ہونے والے 2,093 پناہ گزینوں کے نئے سیلابی ریلے کو ایک نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک ایک دن میں سرحد پار کرنے والے پناہ گزینوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

DW.COM

اشتہار