’مقدس گائے کس طرح سڑکوں پر بدحواسی کا باعث ہیں‘ | معاشرہ | DW | 18.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’مقدس گائے کس طرح سڑکوں پر بدحواسی کا باعث ہیں‘

ہندوؤں کے لیے گائے ایک مقدس جانور ہے۔ تاہم اس ’مقدس مخلوق‘ کے نام پر ہندو انتہاپسند کسی بھی علاقے میں کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بھارت کی آبادی 1.3 ارب کا اسی فیصد ہندوؤں پر مشتمل ہے۔ ہندومت میں گائے متعدد بھگوانوں کے ہم راہ ملتی ہے، جن میں شیو بھی شامل ہیں، جو اپنے بیل نندی پر سواری کرتے ہیں یا جیسے گائے بان کرشن بھگوان۔

گائے کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف تشدد، بھارتی فوجی گرفتار

مودی جی، ’’اچھے دنوں کا وعدہ کیا ہوا؟‘

ہندومت میں گائے ایک مقدس جانور ہے، جو لوگوں کی دلی مرادیں پوری کرتی ہے۔ اس کے سینگ بھگوانوں کو، اس کی چار ٹانگیں قدیم ہندو کتب ‘ویدوں‘ کو اور اس کے چار دودھ زندگی کے لیے ضروری مادی سرمایے، خواہشات، نیکی اور بخشش کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

بھارت میں حالیہ کچھ عرصے میں ’گاؤ رکھشک‘ یا ’گائے کے محافظ‘ گروہوں کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ گروپ مقدس ہندو کتب سے یہ حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’گائے ماں کی طرح ہے، جسے ذبح یا کاٹا نہیں جا سکتا۔‘‘

ممبئی سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا ہی گروہ ’گائے کے خادم‘ اپنی ویب سائٹ پر گائے سے حاصل ہونے والے دودھ، مکھن، اُپلوں اور پیشاب کو سرطان کے انسداد تک کے نعرے کے ساتھ مہیا کرتا ہے۔ جب کہ ان میں سے کوئی بھی دعویٰ سائنسی طور پر ثابت نہیں۔

انہی مذہبی جذباتی نعروں کی وجہ سے بھارت میں متعدد ایسے قانون بھی بنے ہیں، جن کے تحت گائے کو تحفظ دیا گیا ہے، جب کہ گائے کے محافظ گروہوں کی تعداد اور طاقت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان گروہوں کو وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔

سن 2017ء میں منظور کردہ مویشیوں پر ظلم کے قانون نے گائے کی مذبح خانوں کو فروخت اور گوشت یا چمڑے کے لیے استعمال کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ اس سے وہ برادریاں خصوصاﹰ زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جو گائے سے جڑے کاروبار سے کسی بھی طرح وابستہ تھیں، جن میں ’نچلی ذات‘ کے ہندو بھی شامل ہیں، جن کے لیے گائے کا گوشت خوراک کا ایک اہم اور سستا ذریعہ تھا۔

سن 2012ء کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی سڑکوں پر قریب ساٹھ لاکھ گائے آزادانہ گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں، جن کی تعداد میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اگلی رپورٹ رواں برس کے آخر میں جاری کی جائے گی۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں گائے کے تحفظ کے لیے منظور کردہ قوانین اور ان کے سخت نفاذ کی وجہ سے ملک بھر میں لاورث پھرنے والی گائیوں کی تعداد میں اضافے کے امکانات ہیں۔

قوانین کے نفاذ اور گائے کے تحفظ میں، ہندو انتہا پسند پیش پیش ہیں، جو گائے کی ’اسمگلنگ‘ میں ملوث افراد کو موقع پر ہی سزا دیتے نظر آتے ہیں۔ بھارت میں حالیہ کچھ عرصے میں ایک طرف تو سڑکوں پر آوارہ پھرتی گائیوں کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا ہے اور ٹرینوں کی پٹریوں پر مر جانے والی گائیوں کی وجہ سے مختلف دیگر مسائل پیدا ہوئے ہیں، مگر ساتھ ہی مختلف واقعات میں کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں گائے کے محافظوں کی جانب سے گائے کو ایک مقام سے دوسرے مقام لے جاتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔

مانسی گھوپالاکرشنن، ع ت، ع ح

DW.COM