مقبول اداکار رجنی کانت بھی سیاسی میدان میں کوڈ پرے | حالات حاضرہ | DW | 04.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مقبول اداکار رجنی کانت بھی سیاسی میدان میں کوڈ پرے

بھارت کے معروف فلم اداکار رجنی کانت نے آئندہ ماہ ایک نئی سیاسی جماعت لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ فلموں میں مقبولیت سیاسی بساط پر ان کی کامیابی کی ضامن نہیں ہوسکتی۔

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے سپر اسٹار فلمی اداکار رجنی کانت کی سیاست میں داخلے سے متعلق بہت دنوں سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ بالآخر تین دسمبر کو انہوں نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے خود ہی اعلان کر دیا کہ آئندہ ماہ جنوری میں وہ اپنی نئی سیاسی جماعت لانچ کریں گے۔

اس کا اعلان کرتے ہوئے رجنی کانت نے کہا کہ ان کی سیاسی جماعت ذات پات اور مذہب کے برعکس ’’روحانی سیکولر سیاسی‘‘ اقدار پر مبنی ہوگی۔ اپنی اداکاری سے لوگوں کا دل جیتنے والے اداکار نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی سیاست سے ’تعجب خیز اور معجزاتی پہلو‘  اجاگر ہوں گے۔

آئندہ برس کے وسط میں تمل ناڈو کی ریاستی اسبملی کے انتخابات ہونے ہیں اور رجنی کانت نے اس سے تقریبا پانچ ماہ قبل اپنی سیاسی جماعت کے لانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ آیا وہ آنے والے انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا ،’’ اگر میں جیتا تو یہ عوام کی جیت ہوگی، اگر میری شکست  ہوئی تو یہ ان کی ہار ہوگی۔‘‘

 اس سے متعلق اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا، ’’ہم تبدیلی کے ضامن ہوں گے اور اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ ہم اسبملی کے انتخاب میں یقینا کامیابی حاصل کریں گے اور ایمان دار، شفاف، بدعنوانی سے پاک ایک ایسی سیاست فراہم کریں گے جو ذات پات اور مذہبی تفرقہ بازی سے مبرا ہوگی۔‘‘ بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ وہ تمل ناڈو کی عوام کے لیے  اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

تمل ناڈو کی سیاست پر کیا اثر پڑےگا؟

ریاست تمل ناڈو کے دو بڑے رہنما ڈی ایم کے کے کرونا ندھی اور اے آئی ڈی ایم کے کی جے للتا کا انتقال ہوچکا ہے۔ یہ دنوں رہنما متعدد بار ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے اور ان کے انتقال سے ریاست میں ایک سیاسی خلا ضرور پایا جاتا ہے لیکن سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ 70 برس کے رجنی کانت کے لیے یہ خلا پر کرنا آسان بات نہیں ہوگی۔

ریاست کے معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار پرنس جیبا کمار کہتے ہیں، ’’رجنی کانت اداکار کی حیثیت سے تو بہت مقبول ہیں تاہم، اس مقبولیت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ وہ  اور ان کی فلموں میں بدعنوانی کے خلاف بات ہوتی ہے، شفاف حکمرانی کا نعرہ دیا جاتا ہے۔ تاہم ذاتی طور پر ان کے خلاف انکم ٹیکس کے کیسز ہیں۔ ٹیکسز کے تعلق سے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوتی رہی ہے اور جرمانہ بھی عائد کیا گيا ہے اس لیے سیاست میں ان کی مقبولیت کے چانسز بہت کم ہیں۔‘‘

جیبا کمار کے مطابق  ریاست کی ایک لابی رجنی کانت پر سیاست میں آنے کے لیے دباؤ بنا رہی تھی اور اسی کے کہنے پر انہوں نے یہ اعلان کیا ہے۔ ’’اس لابی کا تعلق دائیں بازو اور بی جے پی کے نظریات کے حامل دانشوروں سے ہے۔ یہ کھلی بات ہے کہ وہ سب بی جے پی کے حامی رہے ہیں۔ اور ان کی نظر میں اگر رجنی کانت سیاست میں آتے ہیں تو حکومت مخالف رجحان کمزور پڑ سکتا ہے اور وہ پھر کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حزب اختلاف کی جماعت ’ڈی ایم کے‘ رہنما اسٹالن کی پوزیشن بہتر ہے اور ان کی کامیابی کے امکان بھی ہیں۔ تاہم رجنی کانت  کو سیاست میں لانے کا مقصد ان کو کمزور کرنا ہے۔ ’’لیکن یہ ان کی اپنی سوچ ہے میری نظر میں اس سے حکومت مخالف ووٹ تقسیم ہونے کے بجائے مزید مستحکم، متحد اور مضبوط ہوگا۔‘‘

 ان کا کہنا ہے کہ رجنی کانت کو بذات خود سیاست میں بہت دلچسپی نہیں ہے اور حال ہی میں ایک خط کے ذریعے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ان کی صحت اب جواب دے رہی ہے۔ ’’ان کے اس قدم کے پیچھے ریاست میں دائیں بازو کی لڑکھڑاتی سیاست کو مضبوطی فراہم کرنا ہے۔‘‘

رجنی کانت سے قبل تمل ناڈو کے ہی ایک اور مقبول ترین فلم اداکار کمل ہاسن نے بھی اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا تھا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اگر رجنی کانت بھی آنے والے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں تو اس بار کے ریاستی انتخابات میں دو مقبول فلم اداکاروں کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوگا۔

بھارت کی جنوبی ریاستوں میں ماضی میں بھی کئی فلم اداکار سیاست میں اپنی قسمت آزمائی کر چکے ہیں جن میں سے کچھ کامیاب  ہوئے تو بہت سے ناکام بھی ثابت ہوئے۔ ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ جے للتا خود ایک معروف اداکارہ تھیں جبکہ ریاست آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی مرحوم این ٹی راما راؤ بھی مقبول اداکار اور کامیاب سیاست داں تھے۔ لیکن ان کے علاوہ بہت سے فلمی ستارے سیاست میں بڑے دھڑلے کے ساتھ آئے تاہم جلد ہی گمنامی کی دنیا میں کھوگئے۔  

ویڈیو دیکھیے 05:17

فنکار تعلقات ميں بہتری کے ليے کردار ادا کر سکتے ہيں، جاويد شيخ

DW.COM