معدے میں تکلیف کو نظر انداز نہ کریں! | دستک | DW | 07.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

معدے میں تکلیف کو نظر انداز نہ کریں!

ہمارے اردگرد یا پھر اکثر ہم خود معدے میں تکلیف کی شکایت کرتے ہیں، جو سکون برباد کر دیتی ہے۔ ایسی زیادہ تر بیماریوں کا تعلق غذا سے ہوتا ہے کہ انسان کیا کھاتا ہے، کتنا کھاتا ہے اور پانی کس طرح استعمال کرتا ہے؟

عام طور پر معدے میں جلن اور تیزابیت کی صورت میں چھاتی کے درمیان جلن محسوس ہوتی ہے،جسے ہارٹ برن بھی کہتے ہیں۔ اس کی وجہ معدے کی تیزابیت کا خوراک کی نالی میں داخل ہونا ہے اور اس جلن کے ساتھ منہ کا ذائقہ خراب جاتا ہے۔ تیزابیت کی مزید نشانیوں میں کھانسی اور ہچکی کا لگنا، آواز کا کھردرا ہونا، مُنہ سے بدبو کا آنا اور پیٹ کا پھولا ہُوا محسوس ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

معدے میں تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے زخم ہو جاتا ہے، خون کا اخراج ہونے لگتا ہے، جو کہ السر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ مہلک بھی ہو سکتا ہے۔ السر معدے کی عام بیماری ہے۔ لیکن اگر السر ٹھیک نہ ہو اور تکلیف مسلسل رہے تو لمحہ فکریہ کیونکہ بات بڑھ بھی سکتی ہے۔

کیا آپ معدے میں بدہضمی، جلن ، تیزابیت، السر اور قبض جیسی تکالیف میں مبتلا تو نہیں؟

اس اہم موضوع پر اسلام آباد میں موجود ماہر امراض جنرل اور لیپروسکوپک سرجن ڈاکٹر سرتاج علی خان سے مفید معلومات لی ہیں، جو آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔

معدے کے امراض کی نوعیت اور علامات

ڈاکٹر سرتاج نے معدے کےامراض / تکالیف کے بارے میں بتایا کہ یہ دو طرح کی ہوتی ہیں ایک عام تکلیف جسے بینائن (Benign) کہا جاتا ہے دوسرا مہلک (Malignant)۔

Benign عام بیماری ہوتی ہے جبکہ Malignant کینسر کو کہتے ہیں۔ Benign میں گیسٹرائٹس، گیسٹرک السر، پیپٹک السر ہو جاتا ہے۔ اس دونوں حالات کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں، جیسا کہ بھوک کا کم ہونا، معدے میں جلن ہونا، معدے میں درد ہونا یا منہ میں کڑوا پانی آنا یا بدہضمی ہو جانا، کھانا کھا کر پیٹ پھولنا، سر کا درد، بار بار منہ کا پکنا، گھبراہٹ ہونا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سینے میں درد ہونا، ٹھنڈے پسینے آنا وہ بھی اکثر رات کو کیونکہ لوگ کھانا کھا کر سو جاتے ہیں۔

ان کے علاوہ معدے کے کینسر میں کچھ مزید علامات بھی شامل ہو جاتی ہیں، جیسا کہ وزن کا کم ہونا، بھوک کا ختم ہونا، بار بار الٹی کا آنا اور الٹی میں پرانی خوراک، جو دو تین دن پہلے کھائی ہو وہ بھی موجود ہو یا معدے میں کوئی گلٹی محسوس ہونا۔

معدے اور نفسیات کا کیا تعلق ہے؟

ڈاکٹر سرتاج سے معدے اور نفسیات کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ڈپریشن معدے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عموما ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دو اعصابی نظام ہیں، ایک تو دماغ اور دوسرا ہم معدے کو کہتے ہیں کیونکہ معدے نے پورا نظام چلانا ہوتا ہے۔ جب معدہ اپ سیٹ ہوگا تو دماغ پر بھی اثر ہو گا۔ اسی طرح آپ ڈپریشن لیں گے تو آپ کا معدہ بھی خراب ہو گا، جس کے بعد سٹریس السر ہوتا ہے۔

معدے کا کینسر آخری مرحلے پر تشخیص ہونی کی وجہ

انہوں نے کہا کہ کینسر کی علامات ویسی ہی ہوتی ہیں، جیسی کہ معدے کی عام تکالیف ہوتی ہیں۔ اس لئے لوگ اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔ کینسر کی تشخیص انڈواسکوپی اور بائیوپسی سے ہوتی ہے۔ ابتدائی اسٹیج پر کینسر تشخیص کرنا ہے تو اس کے لئے انڈواسکوپی کروانی ہوتی ہے لیکن ایک تو انڈواسکوپی مہنگی ہوتی ہے دوسرا اس میں تھوڑی تکلیف ہوتی ہے تو لوگ ہچکچاتے ہیں اور تکلیف کی علامات کو نارمل ہی تصور کرتے ہیں۔ اس لئے معدے کا کینسر عموما مرض بڑھ جانے کے بعد آخری مرحلے میں معلوم ہوتا ہے۔

 معدے میں کینسر ایک طرح کی گلٹی یا رسولی ہوتی ہے۔ جب تک وہ معدے کو بلاک نہیں کر دے پتہ نہیں چلتا۔ بلاک کی صورت میں کھانا نہیں کھایا جاتا یا جو کھا لیں وہ الٹی ہو جاتا ہے۔ وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے تب تک کینسر تیسرے یا چوتھے مرحلے میں پہنچ چکا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ معدے کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کو اسٹو ل اینٹیجن ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں، جو لوگ کروانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر یہ ٹیسٹ بروقت کروا لیا جائے تو السر اور کینسر کی تشخیص جلد ہو جاتی ہے، جس سے علاج بروقت ہو جاتا ہے جو کہ دس پندرہ دن کا ہوتا ہے اور معاملہ پیچیدہ ہونے سے بچ جاتا ہے۔

معدے کی بیماریوں کی وجوہات اور احتیاط

ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا کہ آج کل معدے کا السر اور کینسرکافی بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ ہماری خوارک ہے۔ پہلے ہم کھانا تازہ کھاتے تھے اب کین فوڈ کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے اور خالص خوراک بھی دستیاب نہیں۔ دودھ تک ہم ڈبے کا استعمال کرتے ہیں، جس میں کیمیکل شامل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی ایک فزیالوجی ہے۔ جس طرح ہم اپنی معمول کی روٹین کو فالو کرتے ہیں تو ہم تروتازہ رہتے ہیں اگر ہم پوری رات جاگیں اور اگلا پورا دن سوئیں تو ڈسٹرب رہیں گے، اسی طرح ہمارے معدے کی روٹین بھی خراب ہو جائے تو سارا نظام اپ سیٹ ہو جاتا ہے۔

اس لئے چاہیں اپنے کھانے کی روٹین کاخیال رکھیں، کھانا کھا کر اک دم سے نہ سوئیں، ورزش کریں، ایک ساتھ بہت زیادہ کھانا نہ کھائیں۔ اگر آپ تین چار روٹیاں بھی کھاتے ہوں تو وقفے وقفے سے کھائیں لیکن ایک ہی بار پیٹ بھر کے نہ کھائیں۔ پانی بھی یا تو کھانے سے پہلے یا کھانے کے دوران پیئں لیکن کھانے کے فورا بعد نہ پیئں۔

ڈاکٹر سرتاج نے ہدایت کی کہ بہتر ہے جب معدے کی تکلیف یا جلن شروع ہو تو نرم غذا کا استعمال کیا جائے۔ پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں، ناشتے سے پہلے اسپغول کا استعمال کریں، پانی زیادہ پیئں، معدے کی تکلیف اور امراض سے بچنے کے لئے باہر کا کھانا نہ کھائیں۔ زیادہ مصالحے دار کھانوں سے پرہیز رکھیں، کچا پیاز نہ کھائیں، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی ترک کر دیں۔ تمباکو نوشی اور شراب نوشی کے دوران علاج بھی بیکار ہوتا ہے، جنک فوڈز اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس اور کین فوڈ کا استعمال بند کر دیں۔ بڑے گوشت سے کینسر بڑھتا ہے اس لئے گوشت کا استعمال مناسب رکھیں، کھٹائی اور چکنائی تکلیف کو بڑھاتے ہیں، کھٹی چیزیں خواہ وہ سنگترا ہی کیوں نہ ہو تیزابیت میں اضافہ کرتا ہے اور چکنائی چونکہ معدہ میں ہضم نہیں ہوتی اس لیے تبخیر پیدا کر کے تکلیف کا باعث بنتی۔ صاف ستھرا کھانا کھائیں۔

ان باتوں پر عمل کرنے سے کافی ریلیف ملے گا۔ تیزابیت بھی نہیں ہو گی اور السر کافی حد تک ٹھیک ہو جاتا ہے۔

میں گزشتہ دو تین سالوں میں اپنے دوست احباب کو معدے کی تکالیف میں مبتلا دیکھ رہی ہوں۔ یہ کافی تکلیف دہ ہے ان کے لئے بھی، جو اس تکلیف کو برداشت کر رہے ہیں اور ہمارے لئے بھی جو اپنے پیاروں کو اس اذیت میں مبتلا پاتے ہیں۔ میری سہیلی رابعہ سعدیہ بھی اچانک معدے میں کینسر کے باعث دنیا سے پردہ کر گئیں۔ میرے دو دوستوں کی والدہ بھی معدے کے کینسر کے سبب انتقال کر چکی ہیں۔ اس لئے گاہے بگاہے معدے میں ہونے والی تکالیف کو نظر انداز نہ کریں تکلیف کی صورت میں معالج کی ہدایت پر اسٹو ل اینٹیجن ٹیسٹ اور انڈواسکوپی ضرور کروائیں۔ اس بات کو بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اس لئے اپنے کھانے پینے میں احتیاط برتیں تاکہ تکلیف سے بچ سکیں۔