مصر کے نئے فرعون، السیسی: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مصر کے نئے فرعون، السیسی: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

مصر میں ہفتہ بیس اپریل سے وہ تین روزہ عوامی ریفرنڈم شروع ہو گیا ہے، جس کا مقصد آئین میں ترامیم کی عوامی توثیق ہے۔ ریفرنڈم میں السیسی کے حق میں عوامی فیصلہ یقینی ہے لیکن مستقبل ناامید کر دینے والا ہے۔ ڈی ڈبلیو کا تبصرہ:

ڈوئچے ویلے کے کَیرسٹن کنِپ مصر میں اس آئینی ریفرنڈم پر اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ اس تین روزہ عوامی رائے دہی کے نتیجے میں نہ صرف مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری دے دی جائے گی بلکہ ساتھ ہی موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کے صدارتی اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔

Ägypten Präsident Abdel Fattah el-Sisi
Abdel Fattah al-Sisi

مصری صدر عبدالفتاح السیسی

اس ریفرنڈم سے قبل مصر کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر جو ہورڈنگز دکھائی دیتے تھے، ان میں واضح طور پر لکھ دیا گیا تھا کہ عوام کو حکمرانوں کی کس پسندیدہ سمت میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔

اب تک مصر میں کسی بھی صدر کو چار چار سال کی صرف دو آئینی مدتوں کے لیے ہی منتخب کیا جا سکتا تھا۔ اب اس ریفرنڈم کے نتیجے میں چھ سالہ صدارتی مدت کے لیے کسی بھی رہنما کو تین بار سربراہ مملکت منتخب کیا جا سکے گا۔ اس کا عملی طور پر ایک مطلب یہ بھی ہو گا کہ ریفرنڈم کی کامیابی کی صورت میں السیسی 2030ء تک مصری صدر کے عہدے پر فائز رہ سکیں گے۔

مطلق العنان حکمرانی کے سات عشرے

مصر میں یہ ریفرنڈم ایک پریشان کن سیاسی پس منظر میں منعقد کرایا جا رہا ہے۔ قاہرہ حکومت کے ہزارہا مخالفین جیلوں میں ہیں۔ حکمرانوں سے مختلف رائے کے حامل شہریوں کا تعاقب کیا جاتا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملکی ذرئع ابلاغ کی آواز بھی تقریباﹰ ایک سی ہی ہے۔

Deutschland DW Autor Kersten Knipp

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار کَیرسٹن کنِپ

عوام کی بڑی تعداد متوقع طور پر اس رائے دہی میں حصہ نہیں لے گی، کیونکہ ان کے نزدیک اس ریفرنڈم میں حصہ لینا بھی ایک ایسی رعایت ہے، جس کی موجودہ حکومت حق دار نہیں۔ ان حالات میں ریفرنڈم کے نتیجے میں صدر السیسی کا اور بھی زیادہ بااختیار ہو جانا یقینی ہے۔

مصر کے بہت سے باشندے اس تلخ حقیقت کی وجہ سے بھی اپنی ہمت کھو بیٹھے ہیں کہ ان کے ملک میں 1952ء میں ’نوجوان فوجی افسروں‘ کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد سے آج تک کے 70 برسوں میں، ایک محدود سے وقت کو چھوڑ کر، صرف خود پسند اور مطلق العنان حکمران ہی اقتدار پر قابض رہے ہیں۔

مصری ریاست کے لیے جبر کا وہ ڈھانچہ، جو اس کا حصہ ہے، ایک ایسا کارآمد نظام ہے، جس کے ذریعے وہ یہ طے کرتی ہے کہ ملک میں کب کیا ہو گا۔ کسی دوسرے نظام کے لیے ریاست نے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں۔

امید پسندی پر حملے

ناصر، سادات، مبارک اور السیسی: یہ خود پسند اور مطلق العنان حکمرانوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے، جنہوں نے اس امر کے لیے بنیادیں فراہم کیں، کہ مصری عوام انہیں ’فرعون‘ کہنے لگے۔

ان حکمرانوں نے ہر اس نئی امید پسندی کا گلا گھونٹ دیا، جس کے تحت عوام کسی ’تبدیلی‘ کی امید کر سکتے تھے۔ نئی صدی کے آغاز پر شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں عوام نے ایک بار پھر تبدیلی کی خواہش کی تھی، جو 2011ء میں عرب اسپرنگ کی صورت میں اپنے عروج کو پہنچ گئی تھی۔

پھر اس کے بعد سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آنے والے فوجی سربراہ السیسی جس طرح صدر منتخب ہوئے اور جو کچھ اس کے بعد سے اب تک مصر میں ہوا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی انقلاب کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، اس ملک میں جو اصلاحات بھی متعارف کرائی جا سکتی تھیں، وہ بھی دوبارہ کسی جن کی طرح بوتل میں بند کر دی گئیں۔

آج کے مصر میں اب جو کچھ ہو گا، وہ بذات خود ایک تضاد ہے: آئینی ریفرنڈم کو وسیع تر عوامی تائید و حمایت حاصل نہیں ہو گی لیکن لگتا ہے کہ وہ پھر بھی کامیاب رہے گا اور ایک مطلق العنان حکومت اس ویک اینڈ کے بعد اور زیادہ مطلق العنان ہو جائے گی۔

کَیرسٹن کنِپ / م م / ع ح

DW.COM