مصر میں مظاہرے، منگل کے روز بھی جاری | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مظاہرے، منگل کے روز بھی جاری

مصر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جاری پرتشدد جھڑپوں کے دوران سول کابینہ نے استعفٰی جمع کروا دیا ہے جبکہ فوجی قیادت نے ان مظاہروں کے خاتمے کے لیے سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

default

منگل کی علی الصبح بھی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین تصادم کی اطلاعات ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے برسائے اور ربر کی گولیاں چلائی۔ گزشتہ ویک اینڈ سے شروع ہونے والے نئے مظاہروں میں کم ازکم 33 افراد مارے جا چکے ہیں۔ مظاہرین کے ایک گروپ نے فوجی کونسل کے خلاف ملین مارچ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکومت ملک پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق دارالحکومت قاہرہ کے معروف التحریر اسکوائر کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک نئے انقلاب کے لیے اپنے مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں پیر کی رات کم ازکم بیس ہزار افراد جمع تھے، جن کی تعداد میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے۔

تین روزہ تشدد کے بعد پیر کی شب وزیر اعظم عصام شرف نے سپریم کونسل آف دی آرمڈ فورسز SCAF کواپنی کابینہ کا استعفیٰ جمع کروا دیا ہے۔ مصر کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق فوجی قیادت نے کابینہ کے استعفیٰ کو نامنظور کر دیا ہے تاہم کابینہ کے ایک ترجمان کے بقول ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اگر فوجی قیادت وزیر اعظم کا یہ استعفیٰ قبول کر لیتی ہے تو ملک میں اٹھائیس نومبر کو ہونے والے انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑ جائے گا۔ سابق مصری صدر حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد اب ملک میں پہلی مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔

حسنی مبارک کے معزول ہونے کے بعد ملکی باگ ڈور سنبھالنے والی فوجی قیادت SCAF نے موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی اور ملکی طاقتوں کو ہنگامی مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔ SCAF کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جانے میں مدد دیں۔ فوجی کونسل کے بقول انتخابات طے شدہ شیڈول کے مطابق کرائے جائیں گے۔

NO FLASH Mohamed Hussein Tantawi

فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے دو دہائیوں تک سابق صدر حسنی مبارک کے وزیر دفاع کے طور پر کام کیا

فوجی قیادت نے کہا ہے کہ موجودہ بحران کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور پر تشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ SCAF نے ایسے تمام تر الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ ملکی سیاسی منظر نامے پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں جمع مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کا مطالبہ ہے کہ فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ طنطاوی نے دو دہائیوں تک سابق صدر حسنی مبارک کے وزیر دفاع کے طور پر کام کیا تھا۔ مظاہرین طنطاوی کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے مطالبے پر برقرار ہیں کہ ملکی آئین میں فوج کے اختیارات کم ہوں اور اپریل 2012ء تک صدارتی انتخابات کا انعقاد کروا لیا جائے۔ مظاہرین ملکی وزارت داخلہ میں بھی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مصر میں داخلی معاملات پر اس وزارت کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار