مصر میں مظاہرے، حکومت کی طرف سے صبر تحمل کی اپیل | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مظاہرے، حکومت کی طرف سے صبر تحمل کی اپیل

مصری عبوری حکومت نے مظاہرین کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ مشتعل مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے دوران اتوار کو اسکندریہ میں واقع سکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کے سامنے بھی ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

default

ہفتے کے دن مصری دارالحکومت قاہرہ میں اچانک ہی شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک جبکہ 670 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں بیس سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک شخص ہفتہ کے دن قاہرہ میں ہلاک ہوا جبکہ دوسرا اتوار کی صبح اسکندریہ میں مارا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے برسائے اور ربر کی گولیاں چلائیں۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح بھی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ قاہرہ میں مظاہرین تحریر اسکوائر پر دھرنا دینے کی کوشش میں تھے تاہم انہیں وہاں جمع ہونے سے روک دیا گیا۔ اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور وزارت داخلہ اور فوجی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

Ägypten Proteste in Kairo

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور وزارت داخلہ اور فوجی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی

قاہرہ حکومت کے مطابق دارالحکومت میں بدامنی پھیلانے پر متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قاہرہ کے علاوہ ملک کے دیگر کئی اہم شہروں میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔ اسکندریہ اور سوئز میں بھی عوام سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے فوجی حکومت سے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول مصر کے پارلیمانی انتخابات سے نو روز قبل اس طرح کے ملک گیر مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ مصری عوام اور فوجی حکومت کے مابین اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ مجوزہ ملکی آئین کے مطابق اہم ملکی معاملات پرفوج کو بالادستی حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج ملک کے سیاسی منظر نامے سے الگ ہو کر اقتدار شفاف طریقے سے شہری نمائندوں کے حوالے کر دے۔

مجوزہ ملکی آئین کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے اسلامی جماعتوں اور زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل مظاہرین نے جمعہ کے دن تحریر اسکوائر پر جمع ہونا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے رات بھر اس انقلابی چوک پر ہی بسر کی تاہم ہفتہ کے دن سکیورٹی فورسز انہیں منشتر کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ملک کی کئی اہم سیاسی جماعتوں نے ان پرتشدد مظاہروں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے ایکشن کی مذمت کی۔ دوسری طرف سرکاری ٹیلی وژن پر جاری کیے حکومتی بیان میں مظاہرین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ ہفتہ کے دن ہوئے پر تشدد واقعات کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کروائے گی اور اصل حقائق عوام کے سامنے رکھے گی۔ مصری عبوری سول حکومت کے مطابق شرپسند عناصر ملک کے اس اہم سیاسی موڑ پر عوام کو گمراہ کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

اشتہار