مصر میں مظاہرے جاری، ہلاکتوں کی تعداد ایک درجن سےزائد | حالات حاضرہ | DW | 21.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مظاہرے جاری، ہلاکتوں کی تعداد ایک درجن سےزائد

قاہرہ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین نے ان نئی جھڑپوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

default

سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوششوں کے باوجود وہ التحریر اسکوائر پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اتوار کے دن پولیس اور ملٹری فورس نے التحریر اسکوائر سے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے برسائے اور ربرکی گولیاں چلائیں لیکن وہ ہزاروں مشتعل مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکومت  ملک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو ان پُر تشدد جھڑپوں کے نتیجے میں تیرہ افراد مارے گئے جبکہ دو افراد ہفتہ کے دن ہلاک ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1700 سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ نئے مظاہرے قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ، سوئز اور ایشون تک پھیل چکے ہیں۔ حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار کے بعد مصر میں اٹھائیس نومبر کو پہلی مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تاہم تشدد کی اس تازہ لہر نے ان انتخابات کے انعقاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اتوار کو سکیورٹی فورسز نے کچھ دیر کے لیے التحریر اسکوائر کو مظاہرین سے خالی کرا لیا لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے دوبارہ وہاں ڈیرہ جما لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ پٹرول بموں سے بھی حملے کیے۔

Kairo Demonstration

قاہرہ میں مظاہرے تیسرے دن میں داخل ہو گئے ہیں

کئی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے انتخابات کو مؤخر کرنے کے مطالبات کے باوجود مصری کابینہ نے اتوار کو ایک ہنگامی ملاقات میں فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات کو مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ ان تازہ مظاہروں میں دو عشروں تک سابق صدر حسنی مبارک کے وزیر دفاع رہنے والے فیلڈ مارشل محمد طنطاوی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مظاہرین کے بقول آرمی کونسل کے سربراہ طنطاوی ملک میں فوج کے اختیارات زیادہ سے زیادہ کرنے کے خواہاں ہیں، اس لیے انہیں اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔ تاہم فوجی کونسل مظاہرین کے ان خدشات کو رد کرتی ہے۔

دریں اثناء یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مصر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوجی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر دے، ’میں زور دیتی ہوں کہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ میں اس تشدد کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

اشتہار