مصر میں مظاہرے تیسرے روز بھی جاری | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں مظاہرے تیسرے روز بھی جاری

مصری دارالحکومت قاہرہ میں آج اتوار کو بھی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔ گزشتہ تین دنوں سے جاری ان پر تشدد کارروائیوں میں کم ازکم دس مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ قاہرہ میں واقع التحریر چوک کو بلاک کرنے کے لیے پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ یہ وہی مقام ہے، جہاں سے شروع ہونے والا عوامی انقلاب حسنی مبارک کو لے ڈوبا تھا۔ اب مصری عوام کا تقاضا ہے کہ حسنی مبارک کے بعد رواں برس فروری میں ملکی اقتدار سنبھالنے والے فوجی حکمران محمد حسین طنطاوی بھی اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ فوجی کونسل ملک میں اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش میں ہے تاہم فوجی کونسل نے ایسے تمام تر الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کے طویل دور اقتدار کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابی عمل جاری ہے۔ تاہم اس عمل سے قبل ہی مصری عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی کونسل ملکی آئین میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے، اس لیے اقتدار جلد از جلد عوامی نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے۔

پارلیمانی انتخابات کے بعد بھی ملک کا اقتدار فوج کے ہاتھوں میں ہی رہے گا تاہم نئے مظاہروں کے بعد فوجی کونسل نے کہا ہے کہ وہ آئندہ برس جولائی میں صدارتی انتخابات منعقد کروا کر اقتدار باقاعدہ طور پر ان کے حوالے کر دے گی۔

قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ہفتہ کی شب التحریر چوک پر جمع مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے خلاف اٹھارہ نومبر کو شروع ہونے والے نئے مظاہروں کے نتیجے میں کم از کم بیالیس افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مصر کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق مظاہرین کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کے نتیجے میں پارلیمانی عمارت کے متعدد سکیورٹی گارڈز بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران عالمی برادری نے مصری فوجی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال سے بچا جائے اور ملک کے داخلی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار