مصر میں عورتوں سے برتاؤ، کلنٹن کے لیے دھچکا | حالات حاضرہ | DW | 20.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر میں عورتوں سے برتاؤ، کلنٹن کے لیے دھچکا

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصر میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے برتاؤ کو ’شرمناک‘ اور ’دھچکے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

default

کلنٹن کا یہ بیان ان ویڈیوز اور تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کو خواتین مظاہرین کے کپڑے پھاڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ عموماﹰ اس انداز کا سخت رویہ اختیار نہ کرنے والی ہلیری کلنٹن نے کہا کہ مصر میں انقلاب اور حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہو جانے کے بعد وہاں حکومت خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور سڑکوں پر خواتین کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا، ’ایک مربوط انداز سے خواتین کو بے عزت کرنا، ریاست اور اس کے یونیفارم کی ذلت ہوتی ہے۔ یہ عظیم لوگوں کا خاصا ہر گز نہیں ہوتی۔‘

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر نظر آنے والی ایک ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے ایک سرکاری فوجی ایک خاتون کو بری طرح پیٹ رہا تھا جبکہ اس مار پیٹ کے دوران اس خاتون کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور وہ نیم برہنہ ہو چکی تھی۔ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس پر نظر آنے والی تصاویر میں ایک فوجی بڑی عمر کی ایک روتی ہوئی خاتون کو پیٹ رہا تھا۔

کلنٹن نے کہا کہ مصر میں حالیہ واقعات کسی دھچکے سے کم نہیں۔ ’خواتین انہی سڑکوں پر پیٹی اور بے عزت کی جا رہی ہیں، جن سڑکوں پر چند ماہ قبل انہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انقلاب کے لیے آواز اٹھائی تھی۔‘

انہوں نے ملکی فیصلہ سازی میں عورتوں کو درست نمائندگی نہ دینے پر مصر کی فوجی انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’اب ان خواتین کو انتہاپسندوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کا سامنا ہے۔ خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئی ہیں اور خواتین کو سڑکوں پر پیٹا جا رہا ہے۔‘

ہلیری کلنٹن نے ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں کہا، ’سڑکوں پر خواتین کو پیٹنا، ثقافت کا حصہ نہیں ایک جرم ہے اور مجرم کو قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

اشتہار