مصر، انتخابات سے قبل سیاسی بحران شدید تر | حالات حاضرہ | DW | 27.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مصر، انتخابات سے قبل سیاسی بحران شدید تر

مصر میں کل یعنی پیر سے دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا آغاز ہو رہا ہے تاہم مظاہرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی قاہرہ کے تحریر چوک میں فوجی کونسل کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔

default

اس صورتحال میں فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری سیاسی بحران ختم نہیں ہوتا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد کل مصر میں پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابی عمل کا آغاز ہو رہا ہے تاہم ملک میں سیاسی بحران کے باعث ان انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشانات ابھر چکے ہیں۔ ایک طرف فوجی کونسل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں تو دوسری طرف سیاسی پارٹیوں کے مابین طاقت کے حصول کی رسہ کشی چل رہی ہے۔

قاہرہ کے معروف تحریر اسکوائر پر موجود مظاہرین کی ایک بڑی تعداد فوجی قیادت کے مستعفی ہونے کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی کونسل ملکی آئین میں فوجی اختیارات میں اضافہ کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے آج اتوار کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ نئے آئین میں فوج کے اختیارات میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق طنطاوی نے کہا ہے کہ مصر کے عوام پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے ضرور جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ فوجی کونسل کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور اگر عوام نے سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے فوجی قیادت کا ساتھ نہ دیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اس سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے فوجی کونسل نے آج تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا تاہم کئی اہم سیاسی شخصیات نے کونسل کی اس اپیل کو نظر انداز کر دیا۔ طنطاوی نے کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کا انعقاد طے شدہ پروگرام کے تحت ہو گا اور تمام پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔

حسنی مبارک کے بعد مصر میں اقتدار سنبھالنے والی فوجی کونسل کے سربراہ طنطاوی نے کہا ہے کہ اس وقت مصر ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور عوام نے ہی اسے کامیابی کی طرف لے جانا ہے۔ انہوں نے ممکنہ صدارتی امیدواروں محمد البرادئی اور امر موسیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ عبوری حکومت کی حمایت کریں اور انتخابات کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے تعاون کریں۔

قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق طنطاوی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مصر کی موجودہ صورتحال میں کسی فرد یا پارٹی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فوجی کونسل پر دباؤ ڈالے۔

Kairo Proteste Tahrir Platz gegen Militärrat in Ägypten

مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے دوران کم ازکم چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اس صورتحال میں مصر کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ اگر ان انتخابات میں اسے اکثریت حاصل ہوتی ہے تو نئی حکومت اسے ہی تشکیل دینی چاہیے۔

مصر میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے دوران کم ازکم چالیس افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مغربی ممالک اور اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ مصر میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار