مشہور پاکستانی ٹرک آرٹ کا زمین سے آسمان تک کا سفر | معاشرہ | DW | 01.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مشہور پاکستانی ٹرک آرٹ کا زمین سے آسمان تک کا سفر

دنیا بھر میں مشہور پاکستانی ٹرک آرٹ اب سڑکوں کی بجائے آسمان میں سفر کرے گی۔ ایک فلائنگ اکیڈمی نے اپنے دو سیٹوں والے سیسنا طیاروں کو اس رنگین آرٹ سے مزین کروایا ہے۔

پاکستان کی ٹرک آرٹ کو دنیا بھر میں شہرت حاصل ہوئی ہے۔ کئی مغربی ممالک میں کی آرٹ گیلریوں میں اس آرٹ کو پیش کیا جا چکا ہے اور کئی بین الاقوامی اسٹوروں سے ایسی چھوٹی چھوٹی اشیاء ملتی ہیں، جن پر آپ کو پاکستانی ٹرک آرٹ کے رنگ نظر آتے ہیں۔ کئی مغربی ملکوں میں نہ صرف کاروں بلکہ بڑی گاڑیوں کو بھی اس مخصوص آرٹ سے خوبصورت بنایا جا چکا ہے۔ چند برس پہلے جب اس ٹرک آرٹ کو دنیا کے سامنے لایا گیا تو اس کا مقصد دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا تھا۔

فلائٹ ٹریننگ آرگنائزیشن اسکائی ونگز کے چیف آپریٹنگ افسر عمران اسلم کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ''پاکستان ہرگز فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اور دہشت گردی کے مسائل والا ملک نہیں ہے بلکہ یہ مواقع سے بھرپور ایک متنوع ملک ہے۔‘‘

وہ دیگر طیارے بھی پینٹ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔  یہ ٹرک آرٹ حالیہ چند برسوں میں پاکستان کا بہترین ثقافتی ورثہ بن کر برآمد ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر عالمی تنظیم یونیسکو ٹرک آرٹ کو خیبرپختونخوا میں بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

آرٹسٹ اور پینٹر حیدر علی کا اس موقع پر کہنا تھا، '' دنیا ہماری ٹرک آرٹ پریزنٹیشن سے واقف ہے۔ اب اس طیارے کی وجہ سے ہمارے رنگ آسمان میں اڑیں گے۔ ہم واقعی بہت خوش ہیں۔‘‘  چالیس سالہ حیدر علی نے ٹرک آرٹ کا کام اپنے والد سے سیکھا تھا اور اب ان کا شمار اس فیلڈ کے مشہور ترین کاریگروں میں ہوتا ہے۔

حیدر علی کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اسی طرح ایئربس یا پھر بوئنگ طیارےکو بھی پاکستانی ٹرک آرٹ سے سجانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس طرح ان کا تجربہ مزید وسعت اختیار کر جائے گا۔

ا ا / ع ح ( روئٹرز)