’مشکل فیصلہ لیکن ٹیم کے بہترین مفاد میں‘ | کھیل | DW | 18.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

’مشکل فیصلہ لیکن ٹیم کے بہترین مفاد میں‘

کیا سرفراز نے دھوکا دے دیا؟‘ کچھ حلقے اس سے متفق نہیں۔ لیکن یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ ماضی میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور یہ تبدیلی دراصل ’تبدیلی‘ کے بعد روز روشن کی طرح عیاں تھی۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سے ہٹاتے ہوئے انہیں ان دونوں فارمیٹس سے ڈراپ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب ٹیسٹ کرکٹ میں نئے کپتان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اظہر علی کو جبکہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بابر اعظم کو قیادت مل گئی ہے۔ ون ڈے میچوں کی قیادت کون کرے گا، اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

ہمارا حافظہ اتنا کمزور نہیں ہے۔ پاکستانی کرکٹ میں ایسی تبدیلیاں ماضی میں نظر آتی رہی ہیں۔ زیادہ عرصہ پرانی بات نہیں، جب اظہر علی کی مبینہ ناکامی کے بعد سرفراز احمد کو کپتانی کے فرائض سونپ دیے گئے تھے۔ تب یہ جملہ بہت چلا تھا کہ 'سرفراز دھوکا نہیں دے گا‘۔ بات درست بھی تھی کیونکہ تب کم ازکم ایک روزہ میچوں میں انہی کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی جیت لی تھی۔

کچھ معتبر حلقے تب بھی سرفراز کو کپتان بنانے پر زیادہ خوش نہیں تھے۔ ایسی پیشن گوئیاں بھی کی گئی تھیں کہ وکٹ کیپر بلے باز سرفراز ٹیم کو چلانے میں ناکام رہیں گے۔ لیکن مسئلہ صرف ایک کھلاڑی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے پورا سسٹم کارفرما ہوتا ہے۔ یعنی انتظامیہ اور گروہ بندیاں۔

UK Cricket ICC Champions Trophy | Pakistan gegen England (Reuters/P. Cziborra)

اظہر علی کو نیا ٹیسٹ کپتان بنا دیا گیا ہے

مکی آرتھر کو فارغ کیے جانے کے بعد سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ لیکن پاکستانی کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لے گا بلکہ مکمل تجزیے اور حکمت عملی وضع کرنے کے بعد کوئی قدم اٹھائے گا۔

لو تو اب وقت آ گیا! اس میں کوئی شک نہیں کہ سرفراز احمد نہ تو وکٹ کے آگے اور نہ ہی پیچھے کوئی خاص کارکردگی دکھا سکے۔ ساتھ ہی فیلڈ میں ان کے کپتانی کے فیصلے بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے۔ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم اس کارکردگی کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لیے ظاہری طور پر یہ فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔

لیکن نیا ٹیسٹ کپتان بنایا کسے گیا ہے؟ یہ کوئی نیا نام نہیں بلکہ یہ وہ کھلاڑی ہے، جو ماضی میں پاکستان کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کے نائب تھے۔ تب کہا جا رہا تھا کہ اظہر علی کو نئے کپتان کے طور پر 'گروم‘ کیا جا رہا ہے۔ تاہم مصباح کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی کرکٹ منتظمین ایک مرتبہ پھر مخمصے کا شکار ہو گئے۔ سرفراز احمد یا اظہر علی؟ تب اظہر علی کو بطور کپتان منتخب کیا گیا لیکن بے دلی کے ساتھ۔ نتیجہ وہی، یعنی کچھ میچوں کے بعد ہی انہیں کپتانی سے فارغ کر دیا گیا۔

اب سرفراز کو فارغ کر کے دوبارہ اظہر علی کو ٹیسٹ کپتان بنا دیا گیا ہے۔ کیا پاکستان کے نئے کرکٹ بورڈ نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے یا ایک مرتبہ پھر کھیلوں کی داخلی سیاست یا گروہ بندیوں کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

DW.COM