مشرق وسطیٰ میں طاقت ور کون؟ افریقہ میں مساجد کی تعمیر | مکالمہ | DW | 19.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

مشرق وسطیٰ میں طاقت ور کون؟ افریقہ میں مساجد کی تعمیر

افریقہ میں ان دنوں سینکڑوں مساجد تعمیر ہو رہی ہیں، جن کے لیے سرمایہ زیادہ تر سعودی عرب، ترکی اور ایران مہیا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ممالک افریقہ میں مساجد کے لیے پیسہ خرچ کیوں کر رہے ہیں؟

نومبر میں جبوتی میں عبدالحامد دوئم مسجد کا افتتاح ہوا۔ یہ تیرہ ہزار مربع میٹر پر پھیلی مسجد ہے، جہاں چھ ہزار نمازیوں کے لیے جگہ  موجود ہے، جب کہ اس کے دو مینار چھیالیس میٹر بلند ہیں۔ اس کی دیواروں پر سلطنتِ عثمانیہ کے دور کی خطاطی ہے۔ مسجد کا گنبد تابنے کی ملمع کاری سے مزین ہے اور مسجد کے اندر ترک مساجد کی نمائندگی کرتا فانوس بتا دیتا ہے کہ یہ مسجد ترکی کی مدد سے بنی ہے۔

اس مسجد کی تعمیر میں ترکی کے ڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی امور نے سرمایہ مہیا کیا ہے۔ دیانت کے نام سے معروف اس ادارے کا خیال ہے کہ یہ مسجد جبوتی اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس مسجد کے لیے زیادہ تر مٹیریل ترکی سے درآمد کیا گیا ہے جس میں سفیدی مائل فطری پتھر بھی ہیں، جو مسجد کے اندرونی حصے میں نصب کیے گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ، مساجد میں میناروں کی تعمیر پر پابندی سے کیا حاصل ہوا؟

بنگلہ دیش میں مساجد کی تعمیر، بیس ملین ڈالر کی سعودی پیشکش

جبوتی کے صدر اسماعیل عمر گلیہ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک میں سطلنت عثمانیہ کے طرز کی مسجد چاہتے ہیں۔

نائجر سے تعلق رکھنے والے ماہر بشریات اور برلن کے مرکز برائے اورئنٹل اسٹیڈیز سے وابستہ عبداللہ سنائی کے مطابق، ''ترکی چاہتا ہے کہ وہ ایک علیحدہ اسلامی طاقت کے طور پر روشناس ہو، بالکل ویسے جیسے کئی دہائیوں سے سعودی عرب کو سمجھا جاتا ہے۔‘‘

ترکی افریقہ کے مختلف ممالک میں لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، تاکہ اس کے اثرورسوخ میں اضافہ ہو۔ گزشتہ چار دہائیوں میں ترک ادارہ دیانت دنیا بھر، بہ شمول جبوتی، گھانا، برکینا فاسو، مالی اور چاڈ میں مختلف مقامات پر سو سے زائد اسکولوں اور تعلیمی مراکز کے لیے سرمایہ مہیا کر چکا ہے۔ ترکی ہی نے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں قرن افریقہ کی سب سے بڑی مسجد کی تزین نو میں معاونت کی۔ اس مسجد میں دس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ سنائی کے مطابق اس طرح مختلف ممالک لوگوں میں اپنا تشخص بناتے ہیں تاکہ وہ ان پر اعتماد کرنے لگیں۔

سعودی عرب بھی افریقہ کے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر کے اعتبار سے پیش پیش ہے۔ افریقہ کی مشہور مسجد برائے اسلامی یگانگت سن 1987 میں سعودی سرمایے سے تعمیر کی گئی تھی۔ اسے سعودی عرب کی سلطان بن عبدالعزیز السعود فاؤنڈیشن نے تعمیر کیا تھا۔ سعودی عرب گزشتہ دس سے بیس برسوں میں نائجر، نائجیریا اور مالی میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سنائی کے مطابق، ''اس طرح اسلام کی ایک مخصوص تشریح کی ترویج کی جاتی ہے، خصوصاﹰ سلفی رجحان کی۔‘‘

واضح رہے کہ سلفی اسلام کی سخت تشریحات پر مبنی مسلک ہے۔ اس میں 'مثالی اسلام‘ کے نام سے زور دیا جاتا ہےاور صوفی ازم یا دیگر زیادہ برداشت والے مسالک کے ناقابل قبول قرار دیا جاتا ہے۔

سنیگال کے درالحکومت ڈاکار میں ٹمبکٹو انسٹیٹیوٹ کے سربراہ باکارے سامبے کے مطابق، ''ان مساجد سے ہر طرح کے نظریات کا پرچار دیکھا جا سکتا ہے کیوں کہ مذہب کے ذریعے اثرورسوخ اور طاقت کا حصول ممکن ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:47

جرمنی میں اسلام کی مختصر تاریخ

ترکی اور سعودی عرب کی طرح قطر اور ایران بھی مذہب کو افریقی ممالک میں اثرورسوخ میں اضافے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سامبے کے مطابق، ایران نے سینیگال، آئیوری کوسٹ اور گنی سمیت کئی علاقوں میں مساجد بنائی ہیں، ''مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کا مقابلہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

سامبے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب شیعہ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے نائجیریا میں بہت سی مساجد قائم کر چکا ہے، جب کہ اس ملک میں شیعہ افراد اقلیت میں ہے اور عموماﹰ سماجی دباؤ کی شکایت کرتے ہیں۔

برلن میں مقیم ماہر بشریات عبداللہ سنائی سرمایے کے ذریعے مساجد کی تعمیر پر تنقید کرتے ہیں، ''اب تک نائجر میں حال یہ تھا کہ جس کے پاس پیسے ہوں وہ افریقہ میں مسجد بنا لے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس ملک میں 21 ملین سے زائد افراد مقیم ہیں، جن میں ننانوے فیصد مسلمان ہیں۔ سن 1990 سے سلفی اسلام کی قوت میں اضافے کے بعد مساجد کی تعمیر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘‘

سِلیا فرؤلِش، ع ت، ع ب