مشرقی یروشلم میں جھڑپیں، ’مسجد اقصیٰ کا احاطہ بھی متاثر‘ | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مشرقی یروشلم میں جھڑپیں، ’مسجد اقصیٰ کا احاطہ بھی متاثر‘

یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے نزدیک فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے مابین تازہ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اتوار کے دن یہ تازہ جھڑپیں نئے یہودی سال کے آغاز کے موقع پر ہوئیں۔

Jerusalem Israel Palästina Al Aqsa Moschee Zusammenstöße Polizei

اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر نے الزام عائد کہ ہے کہ مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کو ’میدان جنگ‘ بنا رکھا ہے

یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت پر رونما ہوئی ہیں، جب اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے گزشتہ ہفتے ہی دو ایسے مسلم گروہوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جو یہودیوں کو مسجد اقصیٰ والے علاقے یا یہودیوں کے لیے ’ماؤنٹ ٹیمپل‘ کے طور پر مقدس علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کی مبینہ کوشش کے مرتکب ہوئے تھے۔

اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ مسلح فلسطینی نوجوان گزشتہ شب سے ہی مسجد اقصیٰ میں موجود تھے، جو اتوار کی صبح وہاں جانے والے یہودیوں کو روک دینے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان مظاہرین کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل پولیس نے کارروائی کی اور اس دوران مسجد کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر مشتبہ پائپ بم بھی برآمد کر لیے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی اس تازہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو مسلمانوں کے ایک انتہائی مقدس مقام پر ’حملہ‘ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد اردآن نے الزام عائد کہ ہے کہ مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کو ’ایک میدان جنگ‘ بنا رکھا ہے۔

مسلم عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف اس کمپاؤنڈ کا مرکزی دروازہ بند کرنا تھا تا کہ اندر موجود فلسطینی پتھراؤ نہ کر سکیں۔ اسرائیلی پولیس نے ایک مرتبہ ماضی میں بھی اسی طرح مسجد کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر مرکزی دروازہ بند کر دیا تھا تاکہ نوجوان فلسطینیوں کی طرف سے حملوں کو روکا جا سکے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق فلسطینی نوجوان گزشتہ شب ہی مسجد میں جمع ہو گئے تھے اور ان کا مقصد تھا کہ وہ یہودیوں کے نئے سال کی آمد کے پہلے دن یہودیوں کو ماونٹ ٹیمپل تک جانے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ پولیس کے مطابق اتوار کو علی الصبح یہ کارروائی اس لیے کی گئی تاکہ شام کو ہونے والی یادگاری تقریبات میں کوئی خلل نہ پڑے۔

Israel Jerusalem Al Aqsa Moschee Soldaten Zusammenstöße Palästinenser Polizei

فلسطینی صدر محمود عباس نے اس کارروائی کو مسلمانوں کے ایک انتہائی مقدس مقام پر ’حملہ‘ قرار دیا ہے

اسرائیلی پولیس کے مطابق جب یہ کارروائی کی گئی تو مسجد میں موجود نقاب پوش فلسطینی نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور خوفزدہ کرنے کے لیے پٹاخے بھی پھینکے۔ بتایا گیا ہے کہ مسجد کے مرکزی دروازے سے مشتبہ پائپ بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں کی وجہ سے زخمی ہونے والے بیس افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اتوار کے دن جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ ’ریڈ لائن‘ ہے اور اس پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ادھر پبلک سکیورٹی منسٹر گیلاد اردآن نے کہا ہے کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ مسلمان مظاہرین نے مشرقی یروشلم میں واقع اس مقدس مقام کو ’میدان جنگ‘ بنا لیا ہے۔ اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور بعد ازاں اسے اسرائیل کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر یہ علاقہ ابھی بھی مسلمہ طور پر متنازعہ ہے۔