مشرقِ وسطیٰ میں یوم عاشور کے اجتماعات | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مشرقِ وسطیٰ میں یوم عاشور کے اجتماعات

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں شیعہ مسلمان یوم عاشور کے سلسلے میں بڑے بڑے اجتماعات میں شریک ہیں۔ یہ افراد پیغمبرِ اسلام کے نواسے کی برسی کا سوگ منا رہے ہیں۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی قریب ایک اعشاریہ آٹھ ارب کی آبادی میں اہل تشیع مسلمانوں کی تعداد دس فیصد کے لگ بھگ ہے، جو ہجری سال کے پہلے ماہ یعنی محرم الحرام میں نواسہ پیغمبر اسلام امام حسین کے قتل کا سوگ مناتے ہیں۔ معرکہ کربلا میں امام حسین اپنے اہل خانہ اور حامیوں کے متعدد افراد کے  ہم راہ قتل کر دیے گئے تھے۔

شیعہ خواتین کو محرم کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی جائے، لاہور ہائی کورٹ

پاکستان: عاشورہ کے موقع پر سکيورٹی کے سخت انتظامات

 اہل تشیع کے یہ اجتماعات سنی شدت پسند گروپوں کے دہشت گردانہ حملوں کا بھی آسان ہدف ہوتے ہیں اور ماضی میں ایسے اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ایران، جسے مشرقِ وسطیٰ میں اہل تشیع کی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، عزاداری کے کئی اجتماعات ہوئے، جن میں سوگ واران زنجیرزنی کرتے نظر آئے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر ملک کے مختلف مقامات پر عزاداری کی مختلف محافل کے مناظر بھی پیش کیے گئے۔

ایران میں عاشور ایک ایسے موقع پر منایا جا رہا ہے، جب امریکا جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیوں کا نفاذ کر رہا ہے جب کہ ایرانی کرنسی ’ریال‘ انتہائی بدحالی کا شکار ہے۔ اس موقع پر ان اجتماعات کو ’قربانی‘ اور ’مشکل صورت حال کے خلاف جدوجہد‘ کے خلاف کھڑے ہو جانے کے پیغام کے ابلاغ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایران کے ہم سایہ ملک پاکستان میں بھی شیعہ مسلمانوں کے اجتماعات کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور خفیہ اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ محرم الحرام کی سوگواری تقریبات کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ کسی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکام نے موٹرسائیکلوں پر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

افغانستان میں بھی اس موقع پر مختلف شہروں میں اہم مساجد کے قریب ٹرکوں اور بڑی گاڑیوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ افغان حکام کا مقصد ان اقدامات کا مقصد کسی کار یا ٹرک بم حملے سے بچاؤ ہے۔

DW.COM