مسلم سابق نائب بھارتی صدر کی آپ بیتی، ہندو قوم پرست چراغ پا | دستک | DW | 26.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

مسلم سابق نائب بھارتی صدر کی آپ بیتی، ہندو قوم پرست چراغ پا

سابق نائب صدر حامد انصاری نے اپنی آپ بیتی کو صرف اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ سن 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا آنکھوں دیکھا حال بھی ضبط تحریر کیا ہے۔

بھارت میں ویسے تو نائب صدر کو دستوری اعتبار سے عاملہ (ایگزیکیٹو) کے کوئی اختیارات حاصل نہیں مگر پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا کی کارروائی کی صدارت کرنے کی وجہ سے نائب صدر کا کردار خاصا اہم ہو جاتا ہے۔

محمد حامد انصاری دس سال تک ملک کے نائب صدر رہے تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہی رہے۔  تراسی سالہ انصاری کے بقول وہ رول بک (ضوابط) کی پیروی کرتے تھے جبکہ مودی اپنی عادت سے مجبور عجلت میں یا بلڈوز کر کے قوانین پاس کروانا چاہتے تھے۔ عجلت میں پاس کروائے قوانین کی سب سے بڑی مثال کسانوں سے متعلق حالیہ قوانین ہیں، جن کے خلاف بھارت میں ایک سیاسی طوفان سا بپا ہے۔

حامد انصاری بھارت کے 12ویں اور تیسرے مسلمان نائب صدر ہوئے۔ ان کی آپ بیتی بعنوان  BY MANY A HAPPY ACCIDENT  آج کل عوامی بحث کا بڑا موضوع بنی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: ہندو قوم پرست، بالی وڈ کے اداکار عامر خان سے ناراض کیوں ہیں؟

اس کتاب پر نہ صرف دائیں بازوں کے ہندو قوم پرست عناصر بلکہ حکومتی حلقے بھی خفا ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت بھارت میں فرقہ واریت سے آلودہ جو سیاسی ماحول ہے اور جس طرح دائیں بازو کے ہندو قوم پرست عناصر اور تنظیمیں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ایک سابق مسلمان نائب کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

انصاری نے اس کتاب میں بالخصوص مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کے واقعات، گروہی تشدد، عدم سلامتی کا احساس، سیکولرزم کا زوال اور ریاست جموں و کشمیر کی نیم خود مختاری غیر جمہوری طریقے سے ختم کرنے کے علاوہ اپنے دور اقتدار کے آخری تین سال کے تلخ تجربات بھی قلمبند کیے ہیں۔

انصاری نے بطور خاص اس بات کا تذکرہ کیا کہ ایک دن اچانک وزیراعظم نریندرمودی ایوان بالا  میں واقع ان کے دفتر میں تشریف لائے۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا کہ وزیراعظم پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بغیر ہی ملنے آ جائیں۔ وزیراعظم گویا ہوئے کہ 'آپ سے بڑی ذمہ داریوں کی توقعات ہیں۔ تاہم آپ میری مدد نہیں کر رہے ہیں‘۔

انصاری لکھتے ہیں کہ ان کا جواب تھا کہ 'میں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اور اس کے باہر میرے طرز عمل سے سبھی لوگ واقف ہیں‘۔  مودی نے پوچھا کہ 'شوروغل میں بل کیوں پاس نہیں کیے جا رہے ہیں؟" اس کے جواب میں انصاری نے کہا، 'میں نے جواب دیا کہ یو پی اے کے دور حکومت میں ایوان میں حزب اختلاف کے قائد لیڈر آپ کے ہم جماعت (ارون جیٹلی) نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ کوئی بھی بل غوغا آرائی میں پاس نہیں کرایا جائے گا اور منظوری کے لیے پارلیمانی ضابطہ کی کارروائی کے تحت ہو گی‘۔

یہ بھی پڑھیے: 'ہندوؤں کی حمایت نہ کرنے پر ہاتھ یا زبان کاٹ دی جائے‘

دراصل مودی حکومت کو اپنی پہلی میعاد کے دوران ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہیں تھی، جہاں منظوری کے بغیر کوئی بل قانونی شکل اختیار نہیں کرسکتا۔

انصاری کے بقول وزیراعظم نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ راجیہ سبھا کا ٹی وی چینل ان کی حکومت کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ دراصل بھارت میں بیشتر نیوز چینل مبینہ طور پر حکومت کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں اور مودی اس چینل کو بھی اس رخ پر ڈالنا چاہتے تھے۔ انصاری کی اس کتاب میں انہوں نے مودی سے اپنے تبادلہ خیالات کے متعدد مواقع کا تذکرہ کیا ہے۔

بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ سن 2019 میں ہوئے عام انتخابات میں عوامیت پسندی، قوم پرستی اور اکثریت میں ہونے کے زعم نے اہم کردار ادا کیا۔

سابق نائب صدر نے بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ اور اس کی نیم خود مختاری ختم کرنے کے اقدام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ رقم طراز ہوتے ہیں کہ ” چالاکی اور عیاری سے حربے اختیار کرنے سے کسی حکومت کی ساکھ میں اضافہ نہیں ہوتا، بے شک وہ قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار اور اصولوں پر چلنے کا دعوی کرتی ہو۔  

یہ بھی پڑھیے: کسان ’بھارت کی توہین‘ کا باعث بن رہے ہیں، مودی

انصاری کو سن 2007 میں نائب صدر کے عہدہ کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور سن 2012 میں وہ دوبارہ اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ قومی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین رہے۔ اس سے قبل وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے، جہاں سے انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انڈین فارین سروس کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ 25  سال تک مختلف ملکوں میں بھارت کے سفیر رہے اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب۔ 

میرا مشاہدہ ہے کہ  بھارت میں جو مسلمان بڑے منصبوں پر فائز ہوتے ہیں وہ اکثر جرات سے کام نہیں لیتے ہیں اور تنقیدی رویے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسی شخصیات کو مسلم حلقوں میں  'سرکاری مسلمان‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم انصاری نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے احساسات اور خیالات کو بے لاگ بیان کیا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات