مسلم ریاست میں ’مذہب کے ذریعے سیاسی کرپشن‘: علماء بلبلا اٹھے | حالات حاضرہ | DW | 11.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسلم ریاست میں ’مذہب کے ذریعے سیاسی کرپشن‘: علماء بلبلا اٹھے

شمالی افریقی ملک الجزائر میں بہت سے مسلم علماء اس بات پر بلبلا اٹھے ہیں کہ موجودہ حکومت اپریل میں ہونے والے آئندہ صدارتی الیکشن میں نئے سرے سے اپنی کامیابی کے لیے ’مذہب کو کرپشن‘ کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

شمالی افریقہ کی ریاست الجزائر کے دارالحکومت سے پیر گیارہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس مسلم اکثریتی ملک میں سیاسی طور پر غیر جانبدار علماء اور مساجد کے آئمہ کے گروپ نے ملک کے مذہبی امور کے وزیر سے ایک ملاقات کی ہے۔

Frankreich - Algerias Präsident Abdelaziz Bouteflika in Krankenhaus in Frankreich

بیس سال سے برسراقتدار صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ

اس ملاقات میں ان علماء نے وزیر مذہبی امور کو بتایا کہ حکومت انہیں مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے خطبات میں حکومت کے حق میں بیانات دیں۔ ان علماء کے گروپ کے سربراہ جمیل غول نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم نے اس ملاقات میں ملکی وزیر سے کہا کہ ہم پر بےجا دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ہمیں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت کے بغیر اپنا کام کرنے دیا جائے۔‘‘

ہزار سے زائد ججوں کا بھی انکار

قبل ازیں الجزائر کے ایک ہزار سے زائد ججوں نے بھی یہ کہہ دیا تھا کہ اگر موجودہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اگلے ماہ ہونے والے صدارتی الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لیا، تو وہ اس صدارتی انتخابی عمل کی نگرانی نہیں کریں گے۔ یہ بات ان ججوں نے پیر کو جاری کردہ اپنے ایک متفقہ تحریری بیان میں کہی۔ ان ججوں نے اب ملکی سطح پر اپنی ایک نئی تنظیم بھی بنا لی ہے۔

Algerien Studenten protestieren in Algier gegen Bouteflika

بوتفلیقہ کی نئے سرے سے انتخابی امیدواری کے خلاف ملک بھر میں عوامی مظاہرے اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں

ان ججوں کے اس بیان پر ملکی وزیر انصاف نے نہ صرف ملکی عدلیہ کے ان ارکان کے موقف کی مخالفت کی بلکہ ان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ملک میں آئندہ صدارتی انتخابی عمل کے حوالے سے پوری طرح غیر جانبدار رہیں۔ صدر بوتفلیقہ کی ایک بار پھر انتخابی امیدواری کے مخالف ان ججوں نے اپنی جو نئی ملکی تنظیم قائم کی ہے، اس کا نام ’’انصاف کے تحفے کی بحالی‘‘ رکھا گیا ہے۔

بیس سال سے برسراقتدار بوتفلیقہ

صدر بوتفلیقہ کافی بیمار ہیں اور وہ سوئٹزرلینڈ میں اپنی سرجری کے بعد ابھی کل اتوار دس مارچ کو ہی واپس وطن لوٹے تھے۔ اپنی وطن واپسی سے قبل انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ وہ اپریل میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے اور کامیابی کی صورت میں اپنے عہدے کی آئینی مدت پوری کرنے کے بجائے قبل از وقت ہی یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

اس وقت عبدالعزیز بوتفلیقہ کی عمر 82 برس ہے اور وہ گزشتہ 20 برسوں سے اقتدار میں ہیں۔ بوتفلیقہ نے الجزائر میں ایسا دور بھی دیکھا ہے جب وہ اس ملک کے گزشتہ تیس برسوں کے دوران سب سے طاقت ور صدر تصور کیے جاتے تھے۔ اب لیکن انہیں بہت مشکل حالات کا سامنا ہے اور ان کی نئے سرے سے انتخابی امیدواری کے خلاف ملک بھر میں عوامی مظاہرے اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔

م م / ا ا /  روئٹرز

DW.COM