مسلمان مخالف والدین کی جنگ روشن خیال بچوں سے | معاشرہ | DW | 24.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مسلمان مخالف والدین کی جنگ روشن خیال بچوں سے

مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات رکھنے والے بھارتی ہندو والدین کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے روشن خیال بچے جو اختلاف رکھتے ہیں بی جے پی حکومت کی حالیہ قانون سازی سے۔

بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء میں ایک بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں کی بھی ہے۔ بہت سی لڑکیوں کا تعلق قدامت پسند خاندانوں سے ہے جہاں انہیں اپنے خیالات کا آزادانہ پرچار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پریا (اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا) کا تعلق بھی ایک ایسے ہی خاندان سے ہے، اسے مظاہروں میں پولیس کے تشدد سے ہلاک ہو جانے کا خطرہ نہیں ہے، اسے ڈر ہے اپنے والد کا جو اس کی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے کے بعد اس پر تعلیم کے دروازے بند کر سکتے ہیں۔

پریا کا کہنا ہے،'' میرے والد مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں، انہوں نے زندگی میں جو کچھ کھویا ہے وہ اس کا الزام مسلمانوں کو دیتے ہیں، میں نے ان سے کئی مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہر مرتبہ بات مجھے کالج سے نکالے جانے یا میری شادی کرائے جانے پر ختم ہوتی ہے۔‘‘

یہ کہانی صرف پریا کی نہیں ہے۔ مودی حکومت کی حمایت کرنے والے والدین فیس ٹائم، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے اپنے بچوں کو مظاہروں کے خلاف اور مودی حکومت کے حق میں پیغامات ارسال کر رہے ہیں۔ پریا کے مطابق اس کے والد ہر روز مودی حکومت کے حق میں کئی واٹس ایپ پیغامات بھجواتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ پریا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہے جہاں وہ اپنی شناخت نہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کر تی ہے۔

بھارت: شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج شدید سے شدید تر

ویبٹ سائٹ 'یوتھ کی آواز‘ کے مدیر انشل تیواری کے مطابق واٹس ایپ پر جاری جنگوں نے کئی خاندانوں میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے،'' نوجوان کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں لیکن نوجوان بھارتیوں کو اپنی ثقافت اور والدین کے اثر و رسوخ کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت مشکل سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا پڑتا ہے اور خاص کر نوجوان لڑکیوں کو۔‘‘

ستائیس سالہ سویٹا باگاریا کا کہنا ہے کہ وہ شہریت کے ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں میں کافی سرگرم ہے جس کے باعث اسے اس کے خاندان کی جانب سے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ اس کے والدین مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ سویٹا کا کہنا ہے کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایک نیا خاندان بنا لیا ہے۔ اسے ٹوئٹر پر ایسے دیگر افراد ملے ہیں جو اس ہی کی طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ سویٹا کا کہنا ہے کہ وہ یہ سوچ کر سکون حاصل کرتی ہے کہ کم از کم اس کے حالات ان لاکھوں مسلمانوں سے تو بہتر ہیں جنہیں مودی حکومت کی متعصبانہ قوانین کا سامنا ہے اور اسی لیے وہ سمجھتی ہے کہ اس کا حالیہ مظاہروں میں شامل ہونا بہت ضرروی ہے۔  سویٹا ٹوئٹر پر اپنے خیالات ہزاروں لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو رہی ہے لیکن اس سب کے باوجود اسے اپنے خاندان کے مسلمانوں کے خلاف خیالات تبدیل ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔

ب ج، ک م

ویڈیو دیکھیے 03:25

’مودی حکومت خاموش کرائے گی تو دیواریں بھی بولیں گی‘