مسلح ڈرون: شامی خانہ جنگی میں نیا ہتھیار | حالات حاضرہ | DW | 12.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلح ڈرون: شامی خانہ جنگی میں نیا ہتھیار

امریکی فوج اور دیگر ذرائع کے مطابق شامی خانہ جنگی میں اب ایک نیا ہتھیار سامنے آیا ہے اور حزب اللہ اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ جیسے گروپ اب ہتھیاروں سے لیس جاسوس ڈرونز کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

Frankreich Parrot Drohne (AFP/Getty Images/T. Yamanaka)

ان ڈرونز کی قیمتیں ایک تا تین ہزار ڈالراور وزن پانچ تا دَس پاؤنڈ بتایا گیا ہے

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق القاعدہ کے ایک ذیلی گروپ جند الاقصیٰ کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک ڈرون کو شامی فوجی بیرکس پر اُترتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں مبینہ طور پر ایران نواز شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کی جانب سے ایک ڈرون کے ذریعے دھماکہ خیز مواد سُنی گروپ فتح الشام پر گرایا جا رہا ہے، جو پہلے النصرہ فرنٹ کہلاتا تھا۔

امریکی فوج کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوج اس نئی پیشرفت سے آگاہ ہے۔ اُس نے بتایا  کہ کمانڈرز کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ اب وہ اُن ڈرونز کو دیکھ کر کسی اوٹ میں چلے جایا کریں، جنہیں وہ پہلے جاسوس ڈرونز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے۔

’ایئر وارز‘ نامی پراجیکٹ کا مقصد عراق، شام اور لیبیا میں بین الاقوامی فضائی جنگ پر نظر رکھنا ہے۔ اس منصوبے کے سربراہ کرِس وُڈز نے بتایا کہ اگرچہ ہتھیاروں سے لیس ڈرونز ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہیں لیکن لوگوں کو بہرحال خوفزدہ کر سکتے ہیں: ’’ڈرونز کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کے ایک ملین طریقے ہیں، ان سے راکٹ فائر کیے جا سکتے ہیں، اِن کے ساتھ کچھ باندھ کر اِنہیں کہیں ٹکرایا جا سکتا ہے۔ ہم اتنے برسوں کے دوران اِسی چیز سے ڈر رہے تھے اور اب یہ حقیقت بن چکی ہے۔‘‘

امریکی فوج کے عہدیدار نے کہا کہ وہ فوری طور پر ہتھیاروں سے لیس ڈرونز کی ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکتا اور یہ کہ اب تک اُس کے علم میں صرف ایسے ڈرونز ہیں، جنہیں ہدف سے ٹکرا دیا گیا تھا۔ امریکی فوج کے ایک اور سینیئر اہلکار نے ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد کہا کہ اِن میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے، جس سے لگتا ہو کہ یہ جعلی ہیں۔

Demonstration der AstroDrone App mit einem Quadcopter (ESA/Anneke Le Floc'h)

ان ڈرونز کے ذریعے دشمن کے اڈوں، لڑائی کے میدان میں ہونے والی صف بندی اور ہتھیاروں کے بارے میں تمام تر معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں

اب تک عرب دُنیا میں سرگرم کئی عسکریت پسند گروہ ایسی ویڈیو جاری کر چکے ہیں، جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ نگرانی اور جاسوسی کے لیے پانچ  تا دَس پاؤنڈ وزنی ڈرونز استعمال کر رہے ہیں۔ شام میں سرگرم باغیوں اور شامی سرکاری فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے گروپوں کی طرف سے 2014ء ہی سے جاسوسی کے طور پر ڈرونز کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔

ایک تا تین ہزار ڈالر مالیت کے ان ڈرونز کی مدد سے یہ گروپ دشمن کے اڈوں، لڑائی کے میدان میں ہونے والی صف بندی اور ہتھیاروں کے بارے میں تمام تر معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے ہدف کو زیادہ بہتر طور پر نشانہ بنا سکتے ہیں۔