مسعود اظہر سے متعلق فیصلہ: سفارتی فتح کا بھارتی دعویٰ مسترد | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسعود اظہر سے متعلق فیصلہ: سفارتی فتح کا بھارتی دعویٰ مسترد

پاکستانی حکومت اور کئی سیاسی مبصرین نے اس بھارتی تاثر کو مسترد کر دیا ہے، جس کے تحت نئی دہلی حکومت کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے امیر مسعود اظہر کے عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کو اپنی سفارتی فتح قرار دے رہی ہے۔

بھارت میں حافظ سعید، جیش محمد اور مسعود اظہر کے خلاف احتجاج، فائل فوٹو

بھارت میں حافظ سعید، جیش محمد اور مسعود اظہر کے خلاف احتجاج، فائل فوٹو

مسعود اظہر کو کل یکم مئی بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا، جس کے بعد بھارتی حکومت اور میڈیا نے اسے بھارت کی فتح سے تعبیر کیا تھا۔ تاہم پاکستانی حکومت اور کئی ماہرین کے خیال میں اس فیصلے سے پاکستان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کل ہی میڈیا کو بتایا تھا کہ مسعود اظہر کا معاملہ عالمی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی میں برسوں سے زیر التوا تھا اور ان کی تنظیم پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت پہلے ہی کالعدم ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل  کی پابندیاں لگانے والی کمیٹی کے واضح ضابطے ہیں اور ان ضابطوں کی بنیاد تکنیکی معاملات ہیں۔ ان کے مطابق اس کمیٹی کا طریقہ کار اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ارکان تکنیکی بنیادوں پر کسی بھی مسودے کو التوا میں ڈال دیں تاکہ ان معاملات پر مزید گفت وشنید ہو سکے، جو سلامتی کونسل میں زیر غور ہوں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پہلے جو تجاویز آئی تھیں، ان کا مقصدپاکستان اور (بھارت کے زیر انتظام) کشمیر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی تحریک کو ’بدنام‘ کرنا تھا۔ ’’اسی لیے پاکستان نے انہیں مسترد کر دیا تھا لیکن موجودہ تجاویز کو اس لیے منظور کر لیا گیا کہ ان میں سے تما م سیاسی حوالے نکال دیے گئے تھے۔‘‘

معروف دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب بھی پاکستانی دفتر خارجہ کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا، ’’بھارت چاہتا تھا کہ پلوامہ کے حملے کو اس سے جوڑا جائے اور پاکستان پر الزام لگایا جائے کہ وہ بحیثیت ریاست دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی تجویز کشمیریوں کو بھی بدنام کرنے کے مترادف تھی۔ مسعود اظہر کو اگر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، تو اس کی وجہ طیارہ ہائی جیکنگ اور القاعدہ سے تعلق ہے۔ اس میں بھارت کی تو کوئی کامیابی نہیں ہے۔ چین نے اس بارے میں اپنی وجہ سے تکنیکی التوا کو پاکستان کے ساتھ مشاورت کے بعد ختم کیا ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ جن اقدامات کا سلامتی کونسل نے مطاکبہ کیا ہے، پاکستان وہ پہلے ہی کر چکا ہے، ’’مسعود اظہر کے بینک اکاؤنٹس، سفر اور ہتھیار رکھنے پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔ ان کی تنظیم بھی کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔ اس لیے میری رائے میں سفارتی، سیاسی اور عالمی سطح پر پاکستان کو کسی بھی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر نواز جسپال بھی اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے لیے بہت سی نئی مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا، ’’اب ہمیں یہ ضرور کرنا پڑے گا کہ ہمیں رپورٹیں لکھ کر عالمی سلامتی کونسل کو بتانا پڑے گا کہ ہم نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ بظاہر یہ بہت بڑی بات لگتی ہے کہ UNSC نے کسی ایسے فرد کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے، جو پاکستان میں ہے۔ لیکن ایسا پہلے بھی کچھ افراد کے حوالے سے کیا گیا اور انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تاہم عملی طور پر میرے خیال میں اس سے پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔‘‘

Indien Jammu Moulana Masood Azhar

مسعود اظہر کی انیس سو ننانوے میں لی گئی ایک تصویر

تاہم کچھ ماہرین کے خیال میں پاکستان کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں کیونکہ یہ ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانا پڑے گا، جہاں اس قرارداد کے حمایتی ممالک، یعنی امریکا، برطانیہ اور فرانس، بہت طاقتور ہیں اور وہ اس ماحول اور قرارداد کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارہ برائے امن و استحکام سےوابستہ ڈاکٹر بکر نجم الدین کے خیال میں بھارت اس قرارداد کو بین الاقوامی طور پر پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس پابندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور دیگر طاقت ور ممالک کی حکومتوں اور نئی دہلی کا آپس میں قریبی رشتہ بن گیا ہے۔ بھارت اب اس پابندی کو پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرے گا اور پاکستان کو اپنی کشمیر پالیسی بھی تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک بھی ممکنہ طور پر آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ پاکستان کے لیے کڑی شرائط رکھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پابندی کا اثر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے پر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔‘‘

DW.COM