مسجد میں قرآن کی توہین پر ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسجد میں قرآن کی توہین پر ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا

بنگلہ دیش میں ایک مسجد میں ایک شخص کو مبینہ طور پر قرآن کی توہین کرنے پر زندہ جلا دیا گیا۔ یہ واقعہ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے تین سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ضلع لال منیر ہٹ میں پیش آیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق لال منیر ہٹ کے ایک گاؤں بری ماری میں دو افراد ایک مسجد میں داخل ہوئے اور یہ مسلم عسکریت پسندوں کی جانب سے مسجد میں مشتبہ طور پر چھپائے گئے ہتھیاروں کی تلاش میں تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان افراد نے امام مسجد سے بات چیت کے بعد مسجد میں تلاشی کی کوشش کی، جس دوران اس الماری کی تلاشی کی کوشش بھی کی، جس میں قرآن اور احادیث رکھی گئی تھیں۔

توہین مذہب: پاکستانی لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی

کافر کہانی

مقامی پولیس افسر عابدہ سلطانہ کے مطابق اس تلاشی کو مقامی امام نے قرآن کی توہین گردانا۔ بتایا گیا ہے کہ ان دو افراد کو ابتدا میں مقامی افراد نے پکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا تاہم رات کو اس جگہ پر کئی سو افراد جمع ہو گئے اور ان میں سے ایک شخص کو بری طرح پیٹتے ہوئے ایک قریبی مقام پر لے گئے اور پھر زندہ جلا دیا۔
مقامی حکومتی عہدیدار ابو نواز نشاط کے مطابق، پولیس کو جائے واقعہ سے خاکستر لاش ملی ہے۔ اس موقع پر مقامی افراد 'اللہ اکبر‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کی فوٹیج کچھ ہی دیر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔


بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص قریبی علاقے رنگ پور میں ایک کالج میں لائبریرین کی نوکری ختم ہو جانے کے بعد شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار تھا۔
پولیس کو اس مسجد سے کوئی ہتھیار نہیں ملا جب کے دوسرے شخص کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں فقط افواہوں، توہم پرستی اور غلط خبروں کی بنیاد پر گزشتہ برس پچاس سے زائد افراد کو سڑکوں پر قتل کیا گیا۔
 

ع ت، ع ح (ڈی پی اے)