مسجد حملے کے بعد، سینائی میں جنگجوؤں پر حملے | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسجد حملے کے بعد، سینائی میں جنگجوؤں پر حملے

سینائی پر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد مصری صدر نے جنگجوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعے کے دن اس مصری علاقے میں واقع ایک مسجد پر ہوئے حملے کے نتیجے میں تین سو سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے مصری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مصری فضائیہ نے جزیرہ نما سینائی میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملے مشتبہ جنگجوؤں کے ایسے ٹھکانوں پر کیے گئے، جو سینائی میں مختلف حملوں کا باعث بنتے ہیں۔ انہی جنگجوؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعے کے دن شمالی سینائی میں ایک مسجد پر حملہ کیا تھا۔

مصر میں مسجد پر حملہ، کم از کم 235 افرد ہلاک

مصری فوجیوں پر کاربم حملہ، 23 ہلاک، چالیس زخمی

مصر میں داعش کے حملے، 70 افراد ہلاک

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے نماز جمعہ کے دوران پہلے اس مسجد کو بم سے نشانہ بنایا اور جب نمازی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے تو جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ الروضہ نامی یہ مسجد سینائی کے بئر العبد نامی علاقے میں واقع ہے۔

یہ مسجد صوفی نظریات کے حامل مسلمان افراد میں مقبول تھی اور وہاں جانے والوں میں زیادہ تر افراد صوفی ہی ہوتے تھے۔ ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم  مصر کے اس شورش زدہ علاقے میں فعال اسلامک اسٹیٹ اور اس کے حامی جنگجو گروہ صوفی اسلام کے خلاف ہیں۔

Ägypten al-Sisi Sitzung nach Anschlag auf Rawda Moschee (picture-alliance/Zuma)

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا عہد کیا ہے

طبی حکام نے بتایا ہے کہ اس مسجد پر ہوئے حملے کے نتیجے میں 235 افراد ہلاک جبکہ ایک سو نو زخمی ہوئے ہیں۔ سینائی میں فعال جنگجو ماضی میں سکیورٹی دستوں اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو ہی نشانہ بناتے آئے ہیں تاہم اس مرتبہ ایک مسجد پر حملے کے باعث مصر بھر میں ایک غم وغصے کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

اس تناظر میں مصری صدر نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں عہد کیا ہے کہ وہ سینائی میں موجود جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی خاطر عسکری کارروائی میں تیزی لائیں گے۔

انہوں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ملکی سکیورٹی دستے سینائی کی اس مسجد پر ملوث حملہ آوروں کے خلاف سرعت سے کارروائی کریں گے۔ السیسی نے زور دیا کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کا خون ضائع نہیں جائے گا۔

ادھر ملکی فوجی کے ترجمان نے کہا ہے کہ جمعے کے دن ہوئے حملے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کا پتا چلاتے ہوئے انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح جنگجوؤں کے کئی ٹھکانوں پر بمباری بھی کی گئی ہے۔

سرکاری میڈیا نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کی شام سے شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اس حملے میں ملوث متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ مصری حکومت نے اس خونریز کارروائی پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

DW.COM

اشتہار