1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مستقل چہل قدمی کمر درد دور کرنے میں معاون

20 جون 2024

ایک نئی تحقیق کے مطابق ہفتے میں پانچ دن آدھے گھنٹے تک چہل قدمی سے کمر کے نچلے حصے میں درد تقریباً نصف کم ہو جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی احتیاطی نگہداشت پر زیادہ توجہ مستقبل کی بڑی بچت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/4hHTZ
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنے والے افراد کو کمر درد کی شکایت عام ہے
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنے والے افراد کو کمر درد کی شکایت عام ہےتصویر: Colourbox/E. Wodicka

طبی جریدے لانسیٹ میں اس ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کمر میں ہونے والے بار بار درد کو روکنے کے لیے ایک سستے اور آسان طریقہ کے طورپر باقاعدہ چہل قدمی کی سفارش کی گئی ہے۔

تجربات سے پتہ چلا ہے کہ جو مریض ہفتے میں پانچ بار آدھے گھنٹے کی چہل قدمی کرتے تھے اور فزیو تھیراپسٹ سے ہدایات حاصل کرتے تھے ان میں درد کی تکرار ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں نصف ہو گئی۔

جرمن شہريوں کا پسنديدہ مشغلہ چہل قدمی

مسلسل بیٹھے رہنا سرطان اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے

محققین نے کہا کہ مریضوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی زندگی کا معیار پہلے سے بہتر ہوا اور کام کرنے میں لگنے والا وقت بھی گھٹ کر نصف رہ گیا۔

چہل قدمی
چہل قدمی سے بہت سے دیگر قابل ذکر صحت کے فوائد ہیں، جن میں قلب کی صحت، ہڈیوں کی کثافت، وزن میں کمی اور دماغی صحت کو بہتر بنانا شامل ہےتصویر: Imago/ZUMA Press

سستا اور آسان علاج

محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سستے اور آسان اقدامات ایک ایسی حالت پر ''گہرااثر" ڈال سکتے ہیں جو دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

آسٹریلیا کی میک کوئری یونیورسٹی میں فزیو تھراپی کے پروفیسر اور محققین میں سے ایک مارک ہین کاک نے کہا،"چہل قدمی ایک کم قیمت، وسیع پیمانے پر قابل رسائی اور سادہ ورزش ہے، جس میں جغرافیائی محل و وقوع، عمر یا سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر تقریباً کوئی بھی حصہ لے سکتا ہے۔"

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً آٹھ سو ملین افراد کمر کے نچلے حصے میں درد کے شکار ہیں۔ دس میں سات جو علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں انہیں بھی ایک سال کے اندر یہ شکایت دوبارہ لاحق ہو جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً آٹھ سو ملین افراد کمر کے نچلے حصے میں درد کے شکار ہیں
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً آٹھ سو ملین افراد کمر کے نچلے حصے میں درد کے شکار ہیںتصویر: Channel Partners/Zoonar/picture alliance

تحقیق کس طرح کی گئی؟

اس تحقیق میں سات سو بالغوں کو شامل کیا گیا جو تین سال تک کمر کے نچلے حصے کی دردکی شکایت کے بعد حال ہی میں صحت یاب ہوئے تھے۔

درد اور دماغ: ہم دردِ کمر سے کیسے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں؟

ان میں سے نصف کو، چہل قدمی اور فزیو تھیراپسٹ کی مدد کے ایک پروگرام کے تحت رکھا گیا جب کہ بقیہ نصف کو اپنی مرضی یا پسند کے مطابق طبی اقدامات کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

ہین کاک نے کہا،"جن لوگوں کو پروگرام کے تحت رکھا گیا انہیں اپنی مرضی کے مطابق رکھے گئے گروپ کے مقابلے میں درد کی تکرار کم ہوئی۔ پروگرام کے تحت رکھے گئے لوگوں کو درد کی تکرار اوسطاً 208 دنوں میں ہوئی جب کہ اپنی مرضی کے مطابق طبی اقدامات کرنے والوں نے یہ تکرار صرف 112 دن میں محسوس کی۔

طرز زندگی اہم کیوں ہے؟

چہل قدمی آپ کی پیٹھ کے لیے بہتر کیوں ہے؟

ہین کاک کا کہنا تھا،"ہم قطعی طورپر یہ تو نہیں جانتے کہ پیدل چلنا کمر کے درد کو روکنے کے لیے اتنا اچھا کیوں ہے لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی کے ڈھانچے اور پٹھوں کو ہلکی ہلکی حرکت ہوتی ہے جن سے ان میں مضبوطی آتی ہے اور شخص سکون اور تناو سے نجات محسوس کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ چہل قدمی سے بہت سے دیگر قابل ذکر صحت کے فوائد بھی ہیں، جن میں قلب کی صحت، ہڈیوں کی کثافت، وزن میں کمی اور دماغی صحت کو بہتر بنانا شامل ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کمر کے نچلے حصے میں درد اب بین الاقوامی سطح پر صحت کی ایک عام بیماری بنتی جارہی ہے، جس کا اہم سبب طویل عمر اور زیادہ دیر تک بیٹھنے والے کام نیز بیٹھ کر تفریح کے لیے وقت گزارنے کی عادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے باوجود اس شعبے میں تحقیق، روک تھام اور دیکھ بھال کے لیے مناسب وسائل مختص نہیں کیے جارہے ہیں۔

 

ج ا/ ص ز (ڈی پی اے، لانسیٹ)