مسئلہ کشمیر اور سلامتی کونسل کے ’پانچ بڑے‘: کس کا موقف کیا | حالات حاضرہ | DW | 15.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر اور سلامتی کونسل کے ’پانچ بڑے‘: کس کا موقف کیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں قریب نصف صدی بعد مسئلہ کشمیر زیر بحث آئے گا۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کشمیر کی تازہ صورت حال پر اب تک کس ملک کے نقطہ نظر کی حمایت کر چکے ہیں؟

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تیرہ اگست کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کے نام لکھے گئے ایک خط میں کشمیر کی صورت حال پر سلامتی کونسل کا ایک اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔

سلامتی کونسل کی اگست کے مہینے کے لیے صدارت پولینڈ کے پاس ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بارہ اگست کے روز پولینڈ کے وزیر خارجہ یاسیک کاپوٹوویچا سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا اور ان سے سلامتی کونسل میں کشمیر کی تازہ صورت حال پر بحث کرانے میں تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی درخواست قبول کر لی گئی ہے اور اسے پاکستان میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بات ہو گی؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس سولہ اگست بروز جمعہ منعقد ہو رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کے مطابق اقوام متحدہ میں پولینڈ کی مستقل مندوب اور سلامتی کونسل کی صدر ژوانا ورونَیکا نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز بند کمرے میں سلامتی کونسل کے ایک مشاورتی اجلاس کے دوران تنازعہ کشمیر زیر بحث لایا جائے گا۔

روسی نیوز ایجنسی تاس نے بھی آج جمعرات کے روز اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ سلامتی کونسل کی صدر نے جمعے کی صبح کونسل کے رکن ممالک کا بند کمرے میں ایک مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں کشمیر کی تازہ صورت حال پر گفتگو کی جائے گی۔

تاس کے مطابق چین نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی پاکستانی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے یہ اجلاس جمعرات کی شام یا جمعے کی صبح طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ چین بھی سلامتی کونسل کا ایک مستقل رکن ملک ہے۔

سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا جھکاؤ کس کی طرف؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں جب کہ دس دیگر ممالک دو سالہ مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ مستقل ارکان میں امریکا، برطانیہ، چین، روس اور فرانس شامل ہیں۔ اس وقت کونسل کے دس غیر مستقل ارکان جرمنی، بیلجیم، آئیوری کوسٹ، ڈومینیکن ریپبلک، استوائی گنی، انڈونیشیا، کویت، پیرو، جنوبی افریقہ اور پولینڈ ہیں۔

سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو کسی بھی معاملے پر ویٹو کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد سے اب تک یہ پانچ مستقل ارکان کیا بیانات دے چکے ہیں اور ان کا بظاہر جھکاؤ کس طرف ہے؟

امریکا

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ بھارت نے یہ پیش کش مسترد کر دی تھی اور پھر رواں ماہ کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اس تنازعے کو ایک نئی شکل دے دی تھی۔

امریکا نے نئی صورت حال پر تشویش کا اظہار تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بھارت اپنے اس فیصلے کو ایک داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔

روس

سلامتی کونسل کے ایک اور اہم مستقل رکن ملک روس نے نئی دہلی حکومت کے کشمیر سے متعلق فیصلے کو 'بھارتی آئین کے مطابق‘ قرار دیا تھا۔ رواں برس فروری کے مہینے میں پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدہ صورت حال کے بعد ماسکو نے بھی دونوں ممالک کے مابین کشمیر اور دیگر اختلافی امور پر ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ بھارت نے روسی پیشکش بھی مسترد کر دی تھی۔

بدھ تیرہ اگست کے روز روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ آج جمعرات پندرہ اگست کو روسی نیوز ایجنسی تاس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ماسکو کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث لانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب دیمتری پولیانسکی کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ طویل مدت سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نہیں آیا اور رکن ممالک کو اپنی اپنی پوزیشن پر مشاورت کی ضرورت ہے، اس لیے یہ اجلاس بند کمرے میں ہونا چاہیے۔

چین

چین نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک کے طور پر پاکستانی درخواست کی حمایت کی اور ممکنہ طور چینی حمایت ہی کے باعث سلامتی کونسل میں قریب نصف صدی کے بعد تنازعہ کشمیر ایک مرتبہ پھر زیر بحث آئے گا۔ لداخ کے مسئلے کے باعث بھارتی فیصلے پر چین کو پہلے ہی سے تحفظات ہیں۔ چین نے بھارت کے لداخ اور جموں و کشمیر کو یونین علاقہ بنانے کے بھارتی فیصلے کو چین کی 'علاقائی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش‘ قرار دیا تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کا ہنگامی دورہ کر کے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایک ملاقات بھی کی تھی۔ قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ نے پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے میں مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بھی بیجنگ کا تدورہ کیا اور چین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ نئی دہلی کے مطابق اس دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی پر بات چیت کی گئی تھی۔

برطانیہ

برطانیہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اور تنازعہ کشمیر کے پس منظر میں پاکستان اور بھارت کی سابقہ نو آبادتی طاقت بھی۔ نئی دہلی حکومت کے فیصلے کے اگلے ہی روز برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک راب نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کر کے انہیں برطانوی تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم راب کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے اس مسئلے کو بھارتی نقطہ نظر سے بھی دیکھا۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے دس اگست کے روز ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں کشمیر کی 'سنجیدہ صورت حال‘ سے آگاہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو اہم قرار دیا۔

فرانس

فرانس سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں سے وہ واحد ملک ہے جس نے ابھی تک کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں نہ تو کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی اپنے موقف کا اظہار۔

DW.COM