مزدوری یا بھوک؟ 144 ملین بچوں کے پاس کوئی چارہ نہیں | معاشرہ | DW | 12.06.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مزدوری یا بھوک؟ 144 ملین بچوں کے پاس کوئی چارہ نہیں

حقوق اطفال کے کنونشن اور ملکی قوانین کے باوجود دنیا بھر میں اب بھی پندرہ سال کی عمر سے کم کے 144 ملین بچے اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کی خاطر مزدوری پر مجبور ہیں۔ یہ غربت اور استحصال کا ایک شیطانی چکر ہے۔

چھ سالہ عائشہ مالی کے ایک شہر گاو کے ایک مچھلی بازار میں کام کرتی ہے۔ 10 سالہ سینتیاگو ایکواڈور میں اپنے خاندان کے کھیتوں میں سیاہ مرچیں توڑنے کا کام کرتا ہے۔ 13 سالہ شندار شام کی خانہ جنگی کے سبب اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے فرار ہو کر عراقی شہر اربیل پہنچ گئی جہاں وہ صبح سے شام تک ایک ریستوران میں کام کرتی ہے۔ دنیا بھر میں مزدوری پر مجبور بچوں کے مقدر کے لکھے کا پتہ اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے یونیسیف کی طرف سے شائع کردہ تصاویر سے ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ بچوں کے حقوق کے بین الاقوامی کنونشن اور عالمی ادارہ محنت ILO کی طرف سے بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین کے پر چار کے بعد ہو رہا ہے تاہم گزشتہ 15 برسوں کے دوران محنت کرنے والے بچوں کی تعداد میں دو تہائی کمی آئی ہے۔ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں 5 سے 17 سال کی درمیانی عمر کے مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد 246 ملین سے کم ہو کر 168 ملین ہوگئی ہے۔

جرمنی کے بہبود اطفال کے ادارے Terre des Hommes کی ایک اہلکار ایرز اسٹولس کہ بقول،’’ ان بچوں کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں۔ یا تو یہ محنت کریں یا پیسے کمانے کی کوشش ‘‘۔ یہ ادارہ دنیا کے 33 ممالک میں فعال ہے اور اس کے ایماء پر ’’ بچوں سے مزدوری لینے کے رجحان‘‘ کے خلاف متعدد پروجیکٹس چل رہے ہیں۔

UNICEF Kinderarbeit 2015

عالمی ادارہ محنت ILO کی طرف سے بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں

محض پابندی کافی نہیں

مزدورں کے مسائل سے متعلق عالمی ادارے آئی ایل او کے کنونشن 182 میں جس طرح سے بچوں کی مزدوری کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اُس سے ایرز اشٹولس متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کے مجموعی حالات زندگی کو مد نظر رکھے بغیر ان کی ہر طرح کی مزدوری کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کا کہنا ہے،’’ سب کچھ منحصر ہے کام کی نوعیت اور جن حالات میں بچے کام کر رہے ہیں اُس صورتحال پر‘‘۔ انہوں نے اس سلسلے میں تھائی لینڈ کی مثال دی۔ وہاں بہت سے بچے جھینگوں کی صنعت میں کام کرتے ہیں اور کیکڑے اور جھینگے صاف کرتے ہیں جو عالمی منڈی تک پہنچتے ہیں۔ ایرز اشٹولس کا کہنا ہے،’’ اگر اس کام پر پابندی لگا دی جائے تو بچوں کو روزگار فراہم کرنے والی بڑی فرمیں بچوں کو اپنے ہاں ملازمت نہیں دے سکیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا گا کہ یہ بچے ذیلی آجرین کے ہتھے چڑھ جائیں گے جو ان سے کام بھی زیادہ لے گا اور انہیں مزدوری بھی کم دی جائے گی اور ان مزدور بچوں کو مشکل حالات میں اور نہایت سخت کاموں پر لگا دیا جائے گا‘‘۔

Bildergalerie Kinderarmut Bangladesch Armut Weltkindertag

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی بچوں سے مزدوری لینے کا رجحان کافی زیادہ ہے

تلخ حقیقت

اقوام متحدہ کے بہیود اطفال کے ادارے یونیسیف کا بھی یہی کہنا ہے۔ دنیا کے قریب تمام ممالک نے 2016 ء تک بچوں کی مزدوری کی بدترین طریقے ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ تاہم آئندہ چند برسوں میں اس ہدف کے پورے کے امکانات نہیں ہونے کے برابر ہیں۔ یہ کہنا ہے جرمن یونیسیف کی ننژا چاربونو کا۔ ’’ بچوں اور اُن کے خاندانوں کی بقا کو اس حد تک یقینی بنا دینا کہ ان بچوں کو مزدوری کی ضرورت نہیں پیش آئے، ابھی اس ہدف تک پہنچنے میں بہت وقت باقی ہے‘‘۔

یونیسیف جرمنی کی پریس ترجمان کا مزید کہنا ہے،’’ ہمیں پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بچوں سے لی جانے والی مزدوری ایک حقیقت ہے‘‘۔ تاہم انہیں اس امر پر خوشی ہے کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے مقاصد میں اس عالمی ادارے نے بچوں سے لی جانے والی مزدوری کے خاتمے کو بھی شامل کیا ہے۔ آئندہ 15 سالوں یعنی 2030ء موسم خزاں تک کے لیے نہایت بلند حوصلہ اہداف طے کیے گئے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار