مریم نواز کا انٹرویو: کیا سوال بوٹ کو عزت دینے کا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 13.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مریم نواز کا انٹرویو: کیا سوال بوٹ کو عزت دینے کا ہے؟

ن لیگی رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے آرمی سے بات چیت کرنےکے بیان نے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچادی ہے اورمختلف حلقے اس بیان کی مختلف تاویلات کر رہے ہیں۔

ن لیگ کا کہنا ہے کہ پارٹی کی نائب صدر کا بیان ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جب کہ نون لیگ کے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی ایک بار پھر اقتدار کے لیے جی ایچ کیو کی طرف دیکھ رہی ہے اور یہ کہ اس نے ووٹ کی عزت کے بجائے ایک بار پھر بوٹ کو عزت دو کا سہارا لے لیا ہے۔

آئی جی سندھ کے معاملے میں ملوث آئی ایس آئی اہلکار معطل، آئی ایس پی آر

پی ٹی آئی حزب اختلاف کے خلاف کس حد تک جائے گی؟

بوٹ کو عزت دو

کئی ناقدین کے مطابق مسلم لیگ ن کی پالیسی دورخی رہی ہے۔ ماضی میں نواز شریف سخت لائن لیتے رہے جب کہ شہباز شریف نے طاقتور حلقوں سے مراسم بھی رکھے اور روابط بھی رکھے۔ حالیہ ہفتوں میں ن لیگ نے دعویٰ کیا کہ اس کا اب ایک ہی بیانیہ ہے اور پوری پارٹی اس بیانیے کے پیچھے کھڑی ہے۔ حزب اختلاف کی پارٹیوں کے کچھ سرکردہ رہنما نون لیگ کے ان دعووں کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ان ہی میں ایک رہنما جے یو آئی ایف کے سابق مرکزی امیر، سابق ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد ہیں۔ جنہوں نے حال ہی میں جمعیت سے اس بات پر اختلاف کیا کہ وہ نون لیگ کی دم چھلا بن رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیانات اور انٹرویوز میں ن لیگ پر تنقید بھی کی اور حال ہی میں ترجمان کے عہدے سے استعفی بھی دیا۔ حافظ حسین احمد نے اس بیان پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مریم نواز نے یہ بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ووٹ کو عزت دو کے بجائے بوٹ کو عزت دو کے فلسفے پر یقین رکھتی ہیں اور یہ انہوں نے پہلے بار نہیں کیا۔ ہمارے آزادی مارچ سے پہلے بھی ن لیگ نے قسمیں کھائیں کہ یہ ہمارے ساتھ رہیں گے لیکن اس وقت بھی انہوں نے ہماری پیٹ میں چھرا گھونپا اور جی ایچ کیو سے ڈیل کی۔ نواز شریف کے ٹیسٹس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا اور ان کی طبعیت کے حوالے سے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ پی ڈی ایم کی تحریک شروع ہوئی تو شہباز نے اپنی ضمانت کی درخواست واپس لی اور نیب کی تحویل میں چلا گیا تا کہ اس کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریر نہ کرنا پڑے۔ ن لیگ اور پی پی پی اب بھی جی ایچ کیو سے ڈیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور وہ مولانا فضل الرحمن کو استعمال کر رہی ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کس قانون کے تحت فوج سے بات کرنے کا کہہ رہی ہے۔ ''کیا آئین میں یہ لکھا ہے کہ سیاسی جماعتیں فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کے لیے بلائیں۔ اس بیان کا تو سیدھا یہ مطلب ہے کہ آپ ہمیں اقتدار میں لائیں اور پی ٹی آئی کو نکال دیں۔ یہ ڈیل کا اشارہ نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘

بات ہونی چاہیے لیکن

پی پی پی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات ہونی چاہیے لیکن اس بات چیت کے نکات متعین ہونا چاہیے۔ پی پی پی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرے خیال میں ڈیل کی باتیں غلط ہیں کیونکہ ڈیل خفیہ ہوتی ہے جب کہ مریم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایسی بات چیت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوگی اور اعلانیہ عوام کے سامنے ہوگی۔ اس بات چیت کا محور ہر ادارے کو آئین کی حدود میں واپس بھیجنا، شفاف انتخابات، خراب معیشت کو بہتر کرنا اور پاکستان کی دفاعی پالیسی بدلنا ہونا چاہیے۔ اس دفاعی پالیسی نے ملک کو جنگ میں جھونکا، جس سے ہماری معیشت اور معاشرہ دونوں برباد ہوئے۔‘‘

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، جو پی ڈی ایم کا حصہ ہے، کا کہنا ہے کہ وہ عوامی طاقت کے ذریعے پی ٹی آئی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے۔ پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ حکومت ایک غیر قانونی حکومت ہے۔ جس کو عوامی طاقت کے ذریعے ہٹایا جانا چاہیے اور اس کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا کام سرحدوں کا دفاع کرنا ہے اور حکومتی احکامات کے مطابق دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ لہذا ہم کسی ایسے اقدام کو نہیں سراہتے جس میں فوج کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کا موقع دیا جائے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:32

کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری اور سیاسی سرگرمیاں

آئینی پوزیشن

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر کوئی سیاسی جماعت فوج سے بات نہیں کر سکتی: ''آئینی اور قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آپ سیاسی معاملات پر فوج سے بات نہیں کرتے۔ دفاعی معاملات میں بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں فوج سب سے طاقتور عنصر ہے۔ ماضی میں ن لیگ اور پی پی پی ایک دوسرے کو اقتدار سے نکالنے کے لیے فوج سے مدد مانگتے رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات چیت ملک کے استحکام اور جمہوریت کی مضبوطی اور قومی مفماہت کے لیے ہوتی ہے تو اس کو کرنے میں کیا حرج ہے۔ مریم نے معروضی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر یہ بات کی ہے، جو میرے خیال میں مناسب ہے۔‘‘

ن لیگ کا موقف

ن لیگ کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ملک کا آئین اور قانون فوج سےبات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ''لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ستر سال سے طاقت بھی تو ان کے پاس ہے۔ قانون میں تو مارشل لاء بھی نہیں ہے۔ انتخابات میں مداخلت بھی نہیں ہے لیکن مارشل لا کے بعد سیاست دانوں کو بات کرنی پڑی۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مریم صاحبہ نے کہا کیا ہے انہوں واضح کیا ہے کہ یہ بات آئین اور قانون کے حوالے سے ہوگی کہ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت نہ ہو اور ہر ادارہ آئین کی حدود میں رہے کہ کام کرے۔ یہ مذاکرات پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوں گے تاکہ ملکی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ آج پاکستان کی حالت برما سے بھی بری ہوگئی ہے۔ وہاں تو پھر بھی انتخابات ہوگئے لیکن یہاں شفاف انتخابات نہیں ہوئے۔‘‘

پارٹی کی ایک اور رہنما عظمیٰ بخاری کا دعوی ہے کہ اس بیان سے پارٹی کی ساکھ کو کوئی دھچکا نہیں پہنچے گا اور یہ کہ پارٹی ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہے اور اس سے کسی طور بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مریم نواز صاحبہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا جارہا ہے اور اس کی مختلف تاویلات لوگ اپنی آسانی کے لیے کر رہے ہیں۔ درحقیقت اس طرح کی تجاویز ماضی میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور رضا ربانی نے بھی دی ہیں۔ یہ غیر قانونی حکومت ملک کو تباہ کر رہی ہے۔ اس لیے آرمی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھنا چاہیے اور ملک کو آئین کے مطابق چلانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 04:12

جوتے پالش نہ کرنے کی سزا مل رہی ہے، مریم نواز

فوج کو رام کرنے کی تاریخ

کئی ناقدین کے خیال میں پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں سیاست دانوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کئی مرتبہ فوج کی مدد حاصل کی یا مدد کی اپیل کی۔ نو ستارے یا پاکستان قومی اتحاد نے بھٹو کے خلاف تحریک چلا کر فوج سے سیاسی معاملات میں مداخلت کی اپیل کی۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کی۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کے خلاف بے نظیر نے لونگ مارچ کیا۔ جب کہ انیس سوننانوے میں نوازشریف کی برطرفی کا پی پی پی نے خیر مقدم کیا۔ دونوں بڑی جماعتوں نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر دو ہزار چھ میں میثاق جمہوریت کیا، جس میں کئی نکات پر قائم رہنے کے دعوے کئے گئے لیکن زرداری حکومت نے شہباز شریف کی پنجاب میں حکومت ختم کر کے گورنر راج لگایا۔ جواب میں شہباز شریف نے زرداری کو گلے میں رسی ڈال کر کھینچنے کا اعلان کیا۔ شہاز شریف نے سابق صدر زرداری اور ان کے رفقاء کو علی بابا اور چالیس چور کے خطاب سے بھی نوازا جب کہ نواز شریف میمو گیٹ میں پی پی پی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے اور جی ایچ کیو کو خوش کیا۔ پی پی پی نے ن لیگ کی گزشتہ حکومت کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کے لیے بلوچستان میں نون لیگ کی مبینہ طور پر حکومت ختم کرائی اورسینیٹ کے الیکشن میں صادق سنجرانی کو جتواویا۔ حالیہ برسوں میں ن لیگ اور پی پی پی پر الزام ہے کہ ان دونوں نے مولانا فضل الرحمن کو استعمال کر کے اسٹیبلشمنٹ سے رعایتیں سمیٹیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور نون لیگ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے موقع پر بھی اسٹیبلشمٹ کو رام کرنے کی کوشش کی جب کہ پارلیمنٹ میں کچھ قانون سازی بھی طاقتور حلقوں کو خوش کرنے کے لئے کی گئیں، جس پر نون لیگ اور پی پی پی دونوں نے ہی پھرتی دکھائی۔