مردوں کے لیے آزادی مارچ، خواتین کے لیے روزے | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مردوں کے لیے آزادی مارچ، خواتین کے لیے روزے

جمیعت علماء اسلام کے زیر اہتمام حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے اسلام آباد میں ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کی تیاریاں مکمل کی ہیں لیکن نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل خواتین کو اس مارچ کا حصہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جے یو آئی کی قیادت نے اس مارچ میں خواتین کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان  کے ساتھ شامل تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق نظر آتی ہیں۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی اور قومی وطن پارٹی کی رہنما نسرین خٹک نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ ایک تھکا دینے والا مرحلہ ہے اور کئی دن پر محیط احتجاجی جلسہ ہے، لہذا اس میں خواتین کی شرکت میں انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی تائید کی اور قومی وطن پارٹی کی قیادت نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی کہ ان حالات میں خواتین کی شرکت نہیں ہونی چاہیے۔  پارٹی کے مرکزی چئیرمین آفتاب احمد خان شرپاو نے مکمل سپورٹ کا اعلان کیا ہے اور تمام اضلاع سے کارکن مارچ میں شرکت کرنے کے لیے روانہ ہوں گے۔ ‘‘

دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بھی خواتین اراکین پارلیمان کو جلوس میں آنے سے منع کیا ہے۔ جب اس سلسلے میں جمیعت علماء اسلام کے ترجمان عبدالجلیل جان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''اگر یہ ایک دو گھنٹےکا جلسہ ہوتا تو اس میں خواتین کی شرکت ممکن تھی لیکن یہ احتجاج کا ایک طویل سلسلہ ہوگا، جس میں خواتین کی شرکت میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم خواتین کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اگر وہ اسمبلی میں جا سکتی ہیں اور عوام کے مسائل پر بات کر سکتی ہیں تو وہ اس طرح کے احتجاج میں بھی حصہ لے سکتی ہیں لیکن یہ ایک بڑا اجتماع ہے اور اس میں ہر طرح کے حالات پیش آ سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم نے خواتین کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان کے عزت و احترام کی خاطر انہیں احتجاجی مارچ میں نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘‘

دوسری جانب اس جلسے میں خواتین کو آنے سے روکنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی کارکن عصمت رضا شاہجہان کا کہنا تھا، ''جب دایاں بازو آزادی کا نعرہ لگاتا ہے تو اُس کے اندر عورتوں کے لیے صرف روزے ہی رہ جاتے ہیں۔ وہ بھی دوسروں کے لیے، یعنی مردوں کے لیے اور پدر شاہانہ دائیں بازو کی کامیابی کے لیے۔ روئیں کہ ہنسیں؟‘‘

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم صبا چوہدری کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''میں اس مارچ کی بالکل حمایت نہیں کر رہی کیوں کہ خواتین کو شریک ہی نہیں کیا گیا۔ حکومتی پالیسیوں سے جتنے مرد حضرات نالاں ہیں، خواتین بھی اتنی ہی ہیں۔ ضیا کا زمانہ ہو یا کوئی اور، پاکستان کی عورت نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ جب تک خواتین کو ساتھ شامل نہیں کیا جائے گا کچھ نہیں ہو گا۔ آپ دنیا کے جتنے مارچ دیکھیں خواتین شانہ بشانہ ہیں۔ تو جہاں خواتین نہیں ایسے مارچ کی حمایت کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘