مراکش: پاپائے روم، مسلمان اور تارکین وطن | حالات حاضرہ | DW | 30.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مراکش: پاپائے روم، مسلمان اور تارکین وطن

پاپائے روم پھر ایک اسلامی ملک میں ہیں۔ مراکش میں مسلم رہنماؤں سے ان کی ملاقات ایک اور سنگ میل ہو گی۔ یورپ کے باہر سے یورپی باشندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے پوپ ان سے تارکین وطن کے بارے میں زیادہ کھلے پن کا مطالبہ بھی کریں گے۔

پاپائے روم کے اس دورے کا تعلق ایک بار پھر ایک مذہب کے طور پر اسلام سے ہے۔ متحدہ عرب امارات کے تاریخی دورے کے آٹھ ہفتے بعد کلیسائے روم کے اعلیٰ ترین رہنما کے اس دورے کی منزل شمالی افریقی مسلم بادشاہت مراکش ہے۔ خلیج کے علاقے کی بہت امیر عرب ریاستوں کے برعکس مراکش ایک مختلف سماجی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے اور پاپائے روم بھی اسی کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو بڑی قربت سے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔

مراکش میں سرکاری مذہب اسلام ہے اور ننانوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں قائم ’سیبیڈو‘ (مسیحی مسلم مکالمت اور دستاویزی ریکارڈ کا مرکز) کے سربراہ ٹیمو گیُوزل منصور کے مطابق مراکش کی آبادی اسلام کے مالکی مسلک کی پیروکار ہے، جو ایک ’قدامت پسند لیکن باہمی برداشت کا مظاہرہ کرنے والا مسلک‘ ہے۔ مراکش میں دیگر سنی اکثریتی مسلم ممالک کے برعکس ’ایک عوامی اسلام‘ کا تصور زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مسلم مذہبی معاملات میں حدود و قیود کا تعین بادشاہ کرتا ہے، جو صرف دنیاوی حکمران ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ترین مذہبی قائد بھی ہوتا ہے۔

König Hassan II und Papst Johannes Paul II in Marokko (1980) (Getty Images/Hulton Archive/Keystone)

مراکش کے شاہ حسن ثانی، دائیں، اور پاپائے روم جان پال دوئم ویٹیکن میں ایک ملاقات کے دوران

مراکش کا دورہ کرنے والے دوسرے پوپ

مراکش کے شاہی خاندان کے مطابق اس کا سلسلہ نسلی طور پر براہ راست پیغمبر اسلام سے ملتا ہے اور یہ شاہی گھرانہ مذہبی کھلے پن کا بڑا حامی بھی ہے۔ یہ بات 1985ء میں موجودہ بادشاہ کے والد حسن ثانی نے، جو 1961ء سے لے کر 1999ء تک حکمران رہے تھے، اس وقت ثابت کر دی تھی جب تقریباﹰ چونتیس برس قبل اگست کے مہینے میں انہوں نے پاپائے روم جان پال دوئم کی میزبانی کی تھی۔ 1978ء سے لے کر 2005ء تک پوپ کے عہدے پر فائز رہنے والے جان پال دوئم کلیسائے روم کے وہ اولین سربراہ تھے، جنہوں نے مراکش کا دورہ کیا تھا۔

پوپ جان پال دوئم نے مراکش کے اپنے دورے کے دوران اس وقت کے بادشاہ حسن ثانی کی دعوت پر کاسابلانکا میں 80 ہزار حاضرین کے ایک اجتماع سے خطاب بھی کیا تھا، جن میں بہت بڑی اکثریت مسلم نوجوانوں کی تھی۔ یہ مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور کھلے پن کا اپنی نوعیت کا اولین مظاہرہ تھا، جس کی پہلے کوئی مثال موجود ہی نہیں تھی۔ تب اپنے خطاب میں جان پال دوئم نے قرآن سے بھی حوالے دیے تھے اور کہا تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین مکالمت کی اشد ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

König Mohammed VI von Marokko und Papst Johannes Paul (Getty Images/AFP)

مراکش کے موجودہ بادشاہ محمد ششم کی ویٹیکن سٹی میں ایک ملاقات کے دوران اپریل سن دو ہزار میں پوپ جان پال دوئم کے ساتھ لی گئی امک تصویر

پوپ فرانسس کی رباط میں موجودگی

اپنے اولین دورہ مراکش کے دوران پوپ فرانسس ملکی دارالحکومت رباط میں 27 گھنٹے قیام کریں گے اور اس دوران ان کی توجہ اس بات پر ہو گی کہ دہشت گردی کے خلاف بین المذاہبی مکالمت کی ضرورت آج اتنی زیادہ ہے جنتی پہلے کبھی نہیں تھی۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسپین، جرمنی اور دیگر وسطی یورپی ممالک میں شدت پسند مسلم نوجوانوں نے جتنے بھی دہشت گردانہ حملے کیے، ان کی بہت بڑی اکثریت کا تعلق یا تو مراکش سے تھا یا وہ مراکشی نژاد یورپی شہری تھے۔

اپنے ملک کے نوجوانوں میں پائے جانے والے عدم برداشت اور تشدد کے مظہر اس رجحان کے خلاف مراکش کے موجودہ بادشاہ محمد ششم کافی عرصے سے بہت سرگرم ہیں اور وہ آئمہ کی تربیت میں بہتری کے علاوہ زیادہ برداشت والے اسلام کے بھی بڑے داعی ہیں۔

پوپ فرانسس کے مسلم ممالک کے دورے

پاپائے روم فرانسس کے بارے میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے دوروں کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ وہ مراکش جانے سے پہلے ترکی، بوسنیا ہیرسے گووینا، اردن، فلسطینی علاقوں، آذربائیجان اور مصر کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کسی مسلم ریاست کا آخری دورہ قریب دو ماہ قبل متحدہ عرب امارات کا دورہ تھا۔

دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کے طور پر پوپ فرانسس کی ایک مسلمہ سوچ یہ بھی ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا موقف ہے، ’’مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا ہونے سے بچاتے ہوئے، ہونا یہ چاہیے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، آپس میں ایک دوسرے کو بہنوں اور بھائیوں کے طور پر دریافت کریں اور اسی سوچ کو عملی طور پر اپنے بہت ذمے دارانہ رویوں سے ثابت بھی کریں۔‘‘

’آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ سمندر میں ڈوبنے کے لیے؟‘

پوپ فرانسس کا مراکش کا یہ دورہ تقریباﹰ ڈیڑھ دن کا ہو گا۔ اس دوران وہ مہاجرت اور تارکین وطن کے موضوع پر بھی بات کریں گے۔ شمالی افریقہ میں آج مراکش اور لیبیا افریقی تارکین وطن کی یورپ کی طرف مہاجرت کی دہلیز بن چکے ہیں۔

آج تک مراکش سے یورپ کی طرف غیر محفوظ کشتیوں میں سمندری سفر کرنے والے لاتعداد تارکین وطن میں سے بہت سے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسا آخری بڑا سانحہ گزشتہ برس مئی میں اس وقت پیش آیا تھا، جب مراکش کے ساحل سے یورپی یونین تک کا سفر کرنے والے افراد کی ایک کشتی سمندر میں ڈوب جانے سے 45 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹیمو گیُوزل منصور کے مطابق اس دورے کے دوران بھی پاپائے روم کا ہر اس انسان کے لیے، جو اس دنیا کو اپنی انفرادی کوششوں کے ساتھ تھوڑا سا بہتر اور تھوڑا سا زیادہ پرامن بنانا چاہتا ہے، پیغام یہی ہو گا کہ تارکین وطن سے متعلق ذمے داری میں ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، اس وقت پاپائے روم کے میزبان ملک مراکش کو بھی اور پورے یورپ کو بھی۔

کرسٹوف اشٹراک / م م / ک م

DW.COM