مراکش نے جرمنی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مراکش نے جرمنی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مراکش کے اس فیصلے سے 'حیرت زدہ‘ ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران مراکش اور جرمنی کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

Botschaft des Königreichs Marokko in Berlin

برلن میں مراکش کا سفارت خانہ

مراکش نے برلن میں اپنے سفیر کو جمعرات کے روز ”صلاح و مشورے" کے لیے بلا لیا اورجرمنی پر متنازع مغربی صحارا خطے کے حوالے سے ’منفی موقف‘ اپنانے کا الزام لگا یا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دسمبر میں مغربی صحارا علاقے پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا تھا لیکن رباط نے اس معاملے پر جرمنی کے ”مخالفانہ اقدام" کی سخت نکتہ چینی کی تھی۔

مراکش کا جرمنی پر الزام

مراکش کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ”جرمنی نے مراکشی صحارا کے مسئلے کا تعمیری حل تلاش کرنے سے خود کو الگ کر لیا ہے اور تخریبی رویہ اپنا رہا ہے۔"

گزشتہ دسمبر میں امریکا کی جانب سے متنازع مراکشی صحارا علاقے پر مراکش کے کنٹرول کو تسلیم کرلیے جانے کے فوراً بعد جرمنی نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مراکش کو اس بات سے ناراضگی ہے کہ جرمنی متنازع خطے کے حوالے سے امریکی فیصلے کی مخالفت کیوں کر رہا ہے۔

مراکش کی حکومت نے جرمنی پر مراکش کو بالخصوص لیبیا کے معاملے پر نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ جرمنی نے لیبیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے برلن میں جنوری 2020 کے وسط میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی تھی۔ اس کانفرنس میں افریقی یونین، یورپی یونین اور عرب لیگ کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ان تمام سربراہان مملکت کو دعوت دی تھی جو اس تنازے کا حصہ ہیں۔ لیکن اس میں مراکش کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

رباط کا موقف ہے کہ وہ لیبیا کے تنازعے کے حل کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مراکش نے کہا تھا کہ اسے اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ اسے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نہیں دی گئی۔

رباط نے اس کے علاوہ ”دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے قصوروار"ایک نامعلوم شخص کے ساتھ مبینہ ”ساز باز"  کے سلسلے میں بھی جرمن حکام کی نکتہ چینی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 02:31

ایک مراکشی خاتون کی المناک کہانی

جرمنی کا ردعمل

جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سفیر کو واپس بلانے کے مراکش کے فیصلے پر”حیرت زدہ" ہے۔

جرمن وزارت خارجہ نے کہا”ہم سب اس اقدام سے اس لیے بھی بہت زیادہ حیرت زدہ ہیں کیونکہ ہم اس بحران کو حل کرنے کے لیے مراکش کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کر رہے ہیں۔"

مارچ میں مراکش نے اپنے سرکاری محکموں سے کہا تھا کہ مغربی صحارا کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے وہ جرمنی کے سفارت خانے سے اپنے رابطے معطل کر لیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریبی اقتصادی پارٹنر ہیں۔ جرمن دفتر خارجہ کے مطابق سن 2019 میں جرمنی مراکش کا ساتواں سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا۔ برلن اس شمالی افریقی ملک کو اقتصادی اور صاف ستھری توانائی کے فروغ کے لیے بھی مالی امداد دے رہا ہے۔

مغربی صحارا کا تنازع کیا ہے؟

 شمال مغربی افریقہ کے بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع مغربی صحارا کا یہ علاقہ پہلے اسپین کی نو آبادیات ہوا کرتا تھا۔ سن 1975 میں اس پر مراکش نے قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد سے مراکش حکومت اور صحاروی قوم پرست جماعت پولیساریو فرنٹ کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔

سن 1991میں پولیساریو فرنٹ اور مراکشی حکومت جنگ بندی پر رضامند ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے مشاہدین جنگ کی صورت حال پر نگاہ رکھتے

 ہیں لیکن گزشتہ برس دونوں فریقین کے درمیان تصادم کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا۔

 پولیساریو فرنٹ اس علاقے میں طویل عرصے سے استصواب رائے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ الجیریا، کیوبا، ایران، وینزویلا اور زمبابوے صحاروی عوام کی خود مختاری کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری طرف بحرین، بیلاروس، عوامی جمہوریہ کانگو، گامبیا اور ہنگری ان ملکوں میں شامل ہیں جو اس علاقے پر مراکش کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔

ج ا/ ص ز (اے پی، روئٹرز، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 03:18

’جہاں مسلمان اور یہودی دونوں ہی خوش تھے‘

DW.COM