مذہب کی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کے لیے پہلا عالمی دن آج ہے | معاشرہ | DW | 22.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مذہب کی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کے لیے پہلا عالمی دن آج ہے

اقوام متحدہ نے اس برس سے بائیس اگست کو ہر سال مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہونے والوں کی یاد میں عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

ایسے پہلے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس عالمی ادارے کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نفرت پر مبنی جرائم میں کمی لانے اور بین المذاہبی ہم آہنگی میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال بائیس اگست مذہب یا عقیدے کے باعث تشدد کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ایک عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری اسی برس مئی کے اواخر میں دی تھی۔ اس بل کا مسودہ پولینڈ کے وزیر خارجہ نے برازیل، کینیڈا، مصر، عراق، اردن، نائجیریا، پاکستان اور امریکا کے ایما پر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اس بل کی منظوری سے کچھ ہی عرصہ قبل نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں مسلمانوں کو اور سری لنکا میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر مسیحیوں پر حملوں جیسے بڑے واقعات پیش آ چکے تھے۔

رواں برس نو جون کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور کردہ قرارداد میں یہ بھی درج ہے کہ 'دہشت گردی اور پرتشدد شدت پسندی کی تمام صورتوں کو کسی بھی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے‘۔

اقوام عالم پر عائد بھاری ذمہ داریاں

اپنی نوعیت کے اس پہلے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ سے وابستہ غیر جانب دار ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو انسانی حقوق، مذہب اور عقیدے کی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے سے ہی سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے دنیا بھر کے ممالک کی حکومتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ عدم برداشت کے انسداد اور مذاہب کے پیروکاروں یا غیر مذہبی افراد کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لائیں۔

عوامیت پسندی نفرت میں اضافے کا سبب

دنیا بھر میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ لادین افراد کو بھی ان کے نظریات کے باعث تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق سیاسی اور سماجی سطح پر دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں عوامیت پسندی کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے جس کے باعث اپنے سے مختلف نظریات رکھنے والوں کے لیے نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

مختلف عقائد کے ماننے والوں کو ریاستی اور غیر ریاستی عناصر نشانہ بنا رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق دنیا کے قریب سبھی بڑے مذاہب کے ماننے والوں میں بنیاد پرستی بڑھ رہی ہے۔

بائیس اگست کی مناسبت سے عالمی ادارے کے غیر جانب دار ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں دنیا بھر کے ممالک اور غیر ریاستی عناصر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نفرت پر مبنی جرائم اور امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے بھی مل جل کر کام کریں۔

شمشیر حیدر (م م)

ویڈیو دیکھیے 01:49

مذہبی عبادت گاہیں دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنتی ہیں؟

DW.COM

Audios and videos on the topic